ایران۔امریکہ۔اسرائیل جنگ: توانائی کی قیمتیں، عالمی تجارت اور معیشت ایک نئے دباؤ کے دہانے پر

[post-views]
[post-views]

ایران اور امریکہ۔اسرائیل کے درمیان جاری جنگ نے عالمی کاروبار، توانائی کی منڈیوں اور تجارتی راستوں کو شدید بے یقینی سے دوچار کر دیا ہے۔ اس تنازع نے نہ صرف تیل اور گیس کی قیمتوں میں تیزی پیدا کی ہے بلکہ خوراک سے لے کر گاڑیوں کے پرزوں تک عالمی سپلائی چین کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے کے بعد اہم فضائی اور بحری راستے متاثر ہوئے ہیں۔ آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کا تیل گزرتا ہے، وہاں جہاز رانی تقریباً سست پڑ گئی ہے کیونکہ ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں ڈرون حملے کیے ہیں۔ خلیجی ممالک کے مصروف فضائی راستے بھی متاثر ہوئے ہیں، جس سے عالمی نقل و حمل میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔

تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے نے عالمی کمپنیوں کے اخراجات بڑھا دیے ہیں، جس سے منافع میں کمی اور مہنگائی کی نئی لہر کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ دنیا کی بڑی الیکٹرانکس کمپنی کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ صورتحال طویل ہوئی تو اس کے اثرات ہر ملک اور ہر صنعت تک پہنچیں گے۔

یورپ، جو ابھی تک دو ہزار بائیس کے توانائی بحران کے اثرات سے پوری طرح نہیں نکل سکا، اس صورتحال سے خاص طور پر متاثر ہو سکتا ہے۔ جرمنی کے ایک معاشی ادارے کے مطابق اگر تیل کی قیمت ایک سو ڈالر فی بیرل تک پہنچتی ہے تو جرمنی کی معیشت کو آئندہ دو برسوں میں تقریباً چالیس ارب یورو کے برابر نقصان ہو سکتا ہے۔

اسی طرح خلیجی خطے میں سمندری نقل و حمل میں رکاوٹ کے باعث ایلومینیم، ہیلیم اور سلفر جیسی صنعتی خام اشیا کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے۔ بعض بڑی کمپنیوں نے پیداوار کم کرنے یا عارضی طور پر بند کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ خلیجی خطہ عالمی ایلومینیم سپلائی کا تقریباً آٹھ فیصد فراہم کرتا ہے، اس لیے اس شعبے میں رکاوٹ عالمی منڈی کو براہِ راست متاثر کر سکتی ہے۔

جنوبی کوریا کے حکام نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ طویل ہوئی تو سیمی کنڈکٹر صنعت میں استعمال ہونے والی اہم گیس ہیلیم کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے، جس کا متبادل موجود نہیں۔

دوسری جانب ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اگر توانائی کی قیمتوں میں یہ جھٹکا برقرار رہا تو عالمی معیشت کی رفتار سست ہو سکتی ہے اور بعض ممالک کو کساد بازاری جیسے حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

توانائی کے شعبے کے ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال ایک اہم حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ عالمی توانائی بحران کا خطرہ ختم نہیں ہوا۔ اصل سوال یہ نہیں کہ اگلا بحران آئے گا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ دنیا اس کے لیے کتنی تیار ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos