بیروت/میامی/تل ابیب/دبئی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں ایران کے ساتھ مذاکرات میں کوئی دلچسپی نہیں اور امکان ہے کہ جنگ اسی وقت ختم ہوگی جب تہران کے پاس نہ فعال فوج باقی رہے اور نہ ہی اقتدار میں کوئی قیادت موجود ہو۔
ہفتہ کے روز ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ فضائی حملوں کی مہم ایسی صورتحال پیدا کر سکتی ہے جہاں مذاکرات بے معنی ہو جائیں، اگر ایران کی ممکنہ قیادت ختم ہو جائے اور اس کی فوج تباہ ہو جائے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایک وقت ایسا بھی آ سکتا ہے جب شاید کوئی باقی نہ بچے جو یہ کہہ سکے کہ ہم ہتھیار ڈال دیتے ہیں۔
ادھر امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ دوسرے ہفتے میں داخل ہو گئی ہے اور ہفتہ کے روز ایران اور اسرائیل کے درمیان متعدد حملوں کا تبادلہ ہوا۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے خطے کے ہمسایہ ممالک سے ان ممالک میں موجود امریکی تنصیبات پر ایرانی حملوں کے باعث معذرت کی اور خلیجی ممالک میں پائی جانے والی ناراضی کم کرنے کی کوشش کی، تاہم ان کے اس بیان پر ملک کے اندر سخت گیر حلقوں کی جانب سے تنقید سامنے آئی۔
انہوں نے کہا کہ میں ذاتی طور پر ان ہمسایہ ممالک سے معذرت چاہتا ہوں جو ایران کے اقدامات سے متاثر ہوئے اور ان سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی حملوں میں شامل نہ ہوں۔
ایرانی صدر نے امریکی صدر ٹرمپ کے ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کے مطالبے کو ایک خواب قرار دیا، تاہم انہوں نے بتایا کہ ایران کی عبوری قیادت کی کونسل نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ہمسایہ ممالک پر حملے اس وقت تک معطل رکھے جائیں گے جب تک ایران پر حملے ان کی سرزمین سے شروع نہ ہوں۔
ان بیانات کے بعد ایران کی قیادت کے اندر ممکنہ اختلافات کی قیاس آرائیاں بھی سامنے آئیں، تاہم اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے ٹیلی ویژن خطاب میں کہا کہ اگر ایران کی پاسداران انقلاب کے ارکان ہتھیار ڈال دیں تو انہیں نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔
دوسری جانب ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے سرکاری ٹیلی ویژن پر کہا کہ جنگ سے نمٹنے کے معاملے پر ایرانی حکام کے درمیان کوئی اختلاف موجود نہیں۔
ادھر ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں اتوار کی صبح امریکی سفارت خانے کے قریب ایک دھماکا ہوا جس سے معمولی نقصان ہوا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ناروے کی پولیس کے مطابق دھماکے کی وجہ اور اس میں ملوث افراد کے بارے میں فوری طور پر کچھ واضح نہیں ہو سکا۔
عینی شاہدین نے ناروے کے اخبار کو بتایا کہ سفارت خانے کے اطراف کے علاقے سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا۔ امریکی محکمہ خارجہ نے فوری طور پر اس واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ذرائع کے مطابق سعودی عرب نے تہران کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کی جانب سے مملکت یا اس کے توانائی کے شعبے پر حملے جاری رہے تو ریاض بھی اسی انداز میں جواب دے سکتا ہے۔ سعودی وزارت دفاع نے بتایا کہ اتوار کی صبح ریاض کے سفارتی علاقے پر ڈرون حملے کی کوشش کو ناکام بنا دیا گیا اور اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
ایران میں پزشکیان کے بیان نے سیاسی ہلچل پیدا کر دی جس کے بعد صدارتی دفتر نے وضاحت کی کہ اگر خطے میں امریکی اڈوں سے ایران پر حملے کیے گئے تو ایرانی فوج بھرپور جواب دے گی۔
کچھ گھنٹوں بعد صدر پزشکیان نے سوشل میڈیا پر اپنا بیان دوبارہ جاری کیا تاہم اس بار انہوں نے اپنے پہلے خطاب میں شامل معذرت کے الفاظ حذف کر دیے، جن پر سخت گیر حلقوں خصوصاً پاسداران انقلاب نے ناراضی ظاہر کی تھی۔
ادھر عدلیہ کے سربراہ اور عبوری قیادت کونسل کے رکن محسنی اژئی نے کہا کہ خطے کے بعض ممالک کی سرزمین ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے اور ایران کی جوابی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
چند گھنٹوں بعد پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ ان کے ڈرونز نے متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی کے قریب امریکی فضائی جنگی مرکز کو نشانہ بنایا، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔








