توانائی کا بڑھتا ہوا بحران اور پاکستان کے لیے سنگین معاشی چیلنج

[post-views]
Energy security contributes to a country's economic growth, political stability, development and security, agriculture and manufacturing.
[post-views]

آمنہ یوسف

دنیا میں جاری جغرافیائی کشیدگی نے توانائی کے عالمی نظام کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے اور پاکستان جیسے توانائی درآمد کرنے والے ممالک کے لیے یہ صورتحال ایک بڑے معاشی امتحان میں تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ جنگ کے تسلسل اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے باعث توانائی کی عالمی رسد پر شدید دباؤ پیدا ہو چکا ہے۔ اگرچہ کسی فوری جنگ بندی کی صورت میں خام تیل کی قیمتیں وقتی طور پر کم ہو سکتی ہیں، لیکن توانائی کی سپلائی چین اور گیس جیسے دیگر ایندھن کی قیمتوں کو معمول پر آنے میں خاصا وقت لگ سکتا ہے۔

اگر موجودہ کشیدگی چند ہفتے مزید جاری رہتی ہے تو پاکستان کو نہ صرف توانائی کی کمی بلکہ مہنگائی میں تیز اضافے کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ درحقیقت اس بحران کے ابتدائی آثار پہلے ہی نمایاں ہو چکے ہیں۔ پاکستان اپنی تیل اور گیس کی ضروریات کا بڑا حصہ مشرق وسطیٰ سے حاصل کرتا ہے، لیکن وہاں جاری صورتحال نے رسد کے نظام کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ قطر کی جانب سے مائع قدرتی گیس کی پیداوار میں رکاوٹ، کویت کی ریفائنریوں کی بندش اور دیگر علاقائی سپلائی میں تعطل نے پاکستان کے لیے توانائی کی دستیابی کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔

اس صورتحال میں ملکی ریفائنریاں اور تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیاں متبادل راستوں سے خام تیل اور دیگر مصنوعات حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ چونکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے آنے والی روایتی ترسیل متاثر ہو چکی ہے، اس لیے سعودی عرب سے بحیرہ احمر کے راستے خام تیل لانے، متحدہ عرب امارات کے ساحلی علاقوں سے مصنوعات حاصل کرنے اور امریکا یا مغربی افریقی ممالک سے درآمدات بڑھانے جیسے اقدامات زیر غور ہیں۔ تاہم یہ اقدامات صرف جزوی طور پر بحران کو کم کر سکتے ہیں۔

مختصر مدت میں شاید شدید قلت پیدا نہ ہو کیونکہ پاکستان کے پاس تقریباً تین ہفتوں کے برابر تیل کے ذخائر موجود ہیں جن میں نجی کمپنیوں کے تجارتی ذخائر اور ریفائنریوں کے خام تیل کے ذخائر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ متبادل ذرائع سے کچھ مقدار میں سپلائی جاری رہنے کا امکان بھی ہے۔ لیکن اگر تین سے چار ہفتوں کے اندر آبنائے ہرمز کی صورتحال معمول پر نہ آئی تو ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی کمی پیدا ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بجلی کی لوڈشیڈنگ میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں کئی علاقوں میں روزانہ پانچ سے چھ گھنٹے تک بجلی کی بندش دیکھنے کو مل سکتی ہے۔

اس بحران کا دوسرا اہم پہلو قیمتوں میں اضافہ ہے۔ حالیہ دنوں میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تقریباً پچپن روپے فی لیٹر تک اضافہ ہو چکا ہے اور یہ ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ ڈالر کے حساب سے بھی پاکستان میں ایندھن کی قیمتیں خطے کے کئی ممالک سے زیادہ ہو چکی ہیں، حالانکہ ماضی میں یہی ایندھن نسبتاً سستا سمجھا جاتا تھا۔

معاشی ماہرین کے مطابق اگر ایندھن کی قیمتوں میں بیس فیصد اضافہ ہوتا ہے تو اس کا براہ راست اثر مہنگائی کی شرح پر ایک سے ڈیڑھ فیصد تک پڑ سکتا ہے۔ تاہم اس کا اصل اثر دوسرے مرحلے میں سامنے آتا ہے کیونکہ پاکستان میں بیشتر اشیائے ضروریہ کی ترسیل ٹرکوں کے ذریعے ہوتی ہے جو ڈیزل پر چلتے ہیں۔ اس لیے سب سے پہلے خراب ہونے والی خوراک کی قیمتیں بڑھتی ہیں اور پھر آہستہ آہستہ تقریباً تمام اشیا مہنگی ہو جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ چند ماہ بعد ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا اثر بجلی کے بلوں پر بھی پڑتا ہے کیونکہ بجلی کی پیداوار میں استعمال ہونے والے ایندھن کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔ ان تمام عوامل کے نتیجے میں رواں سال جون تک مہنگائی کی مجموعی شرح گیارہ سے بارہ فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔

اس صورتحال میں حکومت کے لیے ضروری ہے کہ فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔ سب سے پہلے ایندھن کے استعمال میں کمی کے لیے محدودیت کی پالیسی اختیار کی جا سکتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسوں اور لیوی میں عارضی کمی کرے تاکہ عوام پر قیمتوں کا پورا بوجھ یکدم منتقل نہ ہو۔ اس وقت پیٹرول اور ڈیزل پر بھاری لیوی عائد ہے جو قیمتوں میں اضافے کا ایک بڑا سبب ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ گیس کی قلت کا مسئلہ بھی پیدا ہو سکتا ہے کیونکہ مائع گیس کی درآمدات متاثر ہو رہی ہیں۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے بجلی کی پیداوار میں فرنس آئل کے استعمال میں اضافہ کرنا پڑ سکتا ہے، مگر اس ایندھن پر بھی بھاری کاربن لیوی عائد ہے جو بجلی کی قیمتوں کو مزید بڑھا سکتی ہے۔ اس لیے حکومت کو اس لیوی میں فوری کمی پر بھی غور کرنا چاہیے۔

طویل المدتی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو پاکستان کو اپنی توانائی کی پالیسی میں بنیادی تبدیلیاں لانا ہوں گی۔ موجودہ بحران نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ایک ہی خطے پر حد سے زیادہ انحصار خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ دیگر ممالک کی طرح پاکستان کو بھی توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانا ہوگا، افریقی اور امریکی ممالک کے ساتھ توانائی کے تجارتی تعلقات بڑھانا ہوں گے اور اسٹریٹجک ذخائر قائم کرنے پر توجہ دینا ہوگی۔

اسی طرح ملک کے اندر توانائی کی ترسیل کے نظام میں بھی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں زیادہ تر سامان، حتیٰ کہ توانائی کی مصنوعات بھی، سڑکوں کے ذریعے منتقل کی جاتی ہیں جس سے ڈیزل کی کھپت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ اگر پائپ لائنوں اور ریلوے کے ذریعے ترسیل کو فروغ دیا جائے تو نہ صرف اخراجات کم ہوں گے بلکہ ایندھن کے ضیاع کو بھی کم کیا جا سکے گا۔

مختصراً کہا جائے تو موجودہ بحران پاکستان کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ فوری طور پر توانائی کے استعمال میں احتیاط، ٹیکسوں میں نرمی اور بہتر انتظامی فیصلوں کی ضرورت ہے، جبکہ طویل مدت میں توانائی کے متبادل ذرائع، بہتر ذخائر اور متنوع سپلائی نظام ہی ملک کو ایسے بحرانوں سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos