عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ ٹیڈروس اذانوم گیبریئسز نے خبردار کیا ہے کہ ایران میں تیل کی تنصیبات پر حالیہ اسرائیلی حملوں کے عوامی صحت پر خطرناک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جن کا سب سے زیادہ خطرہ بچوں اور بزرگوں کو لاحق ہے۔
پیر کے روز جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ ایرانی پٹرولیم تنصیبات کو پہنچنے والا نقصان خوراک، پانی اور فضا کی آلودگی کا سبب بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس قسم کی آلودگی بچوں، ضعیف افراد اور پہلے سے بیماریوں میں مبتلا لوگوں کے لیے شدید صحتی مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ملک کے بعض حصوں میں تیل سے آلودہ بارش ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق ہفتے کے روز تہران اور اس کے قریب واقع صوبہ البرز میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے تہران میں ایندھن ذخیرہ کرنے والی کئی تنصیبات کو نشانہ بنایا جو فوجی ڈھانچے کے لیے استعمال ہو رہی تھیں۔
حملوں کے بعد تہران کی فضا میں آگ کے بڑے شعلے اور گہرے سیاہ دھوئیں کے بادل دیکھے گئے، جبکہ اتوار کی صبح بعض علاقوں میں سیاہ قطرات والی بارش کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
ان حملوں کے ساتھ ہی امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ ایران نے جواباً خطے کے مختلف اہداف پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے تمام فریقوں کو شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس جنگ کا سب سے بڑا نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔









