ایران کے مختلف شہروں میں عوامی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جہاں بڑی تعداد میں لوگ امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے قومی یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ بیرونی حملوں کے باوجود ایرانی قوم متحد ہے اور اپنے ملک کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔
ایرانی قیادت کے مطابق حالیہ حملوں نے قوم کے حوصلے کو کمزور کرنے کے بجائے مزید مضبوط کیا ہے اور عوام میں مزاحمت کا جذبہ بڑھا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جنگی حالات کے باوجود فوج اور عوام دونوں مکمل طور پر تیار ہیں اور ملک کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کیے جائیں گے۔
ایرانی حکام نے تسلیم کیا ہے کہ حالیہ جھڑپوں میں جانی نقصان بہت زیادہ ہوا ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ ایران کسی دباؤ یا طاقت کے آگے سر نہیں جھکائے گا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ظالمانہ قوتوں کے سامنے ہتھیار ڈالنا قابل قبول نہیں۔
ایران نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ خطے میں جاری اس تنازع کو فوری طور پر روکنے کے لیے کردار ادا کیا جائے اور ایران کے خلاف جاری کارروائیوں کو بند کرایا جائے۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ ملک امن کا خواہاں ہے، تاہم اپنے دفاع کے حق سے دستبردار نہیں ہوگا اور کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
مبصرین کے مطابق موجودہ کشیدگی اگر اسی طرح جاری رہی تو پورا مشرقِ وسطیٰ شدید عدم استحکام اور تباہی کی لپیٹ میں آ سکتا ہے جس کے اثرات خطے سے باہر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔








