ایران پر دباؤ میں اضافہ، روس اور چین کی حمایت صرف سفارتی بیانات تک محدود

[post-views]
[post-views]

سپریم رہنما کی ہلاکت اور امریکی دباؤ میں مسلسل اضافے کے بعد ایران اس وقت بڑی حد تک تنہا دکھائی دیتا ہے، جبکہ اس کے دیرینہ شراکت دار روس اور چین کی جانب سے اب تک صرف سفارتی مذمت اور تشویش کے بیانات سامنے آئے ہیں۔

امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں ایران نے تنازع کو مشرقِ وسطیٰ سے آگے بڑھاتے ہوئے میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں جن کے اثرات عالمی توانائی منڈیوں تک پہنچ گئے ہیں۔ ان حملوں نے واشنگٹن سے بیجنگ تک دارالحکومتوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والی عالمی تیل رسد کا تقریباً بیس فیصد حصہ متاثر ہونے سے بحری نقل و حمل شدید متاثر ہوئی ہے۔

ایرانی میزائل قبرص، آذربائیجان، ترکی اور خلیجی ریاستوں تک پہنچے اور اہم تجارتی مراکز، توانائی کے ڈھانچے اور امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔ تیل کی تنصیبات، ریفائنریاں اور اہم سپلائی راستوں پر حملوں کے باعث خام تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل میں شدید خلل پیدا ہوا۔

ماہرین کے مطابق روس اور چین کی محتاط حکمت عملی دراصل ایک سوچا سمجھا فیصلہ ہے۔ ان کے نزدیک ایران کی حمایت میں براہ راست مداخلت انہیں امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ بڑے تصادم میں لے جا سکتی ہے جس کے نقصانات زیادہ اور فوائد محدود ہو سکتے ہیں۔

روس کے لیے اس وقت سب سے بڑی ترجیح یوکرین کی جنگ ہے، جبکہ چین خلیجی توانائی اور تجارت پر انحصار کے باعث محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ اسی وجہ سے دونوں طاقتیں ایران کو اس حد تک اہم سمجھتی ہیں کہ اس کے ساتھ تعلقات برقرار رکھے جائیں، مگر اتنا نہیں کہ اس کے لیے جنگ میں کود پڑیں۔

بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بحران میں چین اور روس خود کو ممکنہ ثالث کے طور پر پیش کرنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔ ادھر بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتیں روس کی معیشت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو رہی ہیں، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی مصروفیت کے باعث یوکرین کے محاذ پر توجہ بھی کم ہو سکتی ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos