ایران کے طالبات کے مدرسے پر حملے کی تحقیقات جاری

[post-views]
[post-views]

امریکی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی جائزے سے یہ امکان ظاہر ہوتا ہے کہ ہفتے کے روز ایران کے ایک طالبات کے مدرسے پر ہونے والا حملہ ممکنہ طور پر امریکی افواج کی کارروائی کا نتیجہ ہو سکتا ہے، تاہم تحقیقات ابھی مکمل نہیں ہوئیں اور کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ دو امریکی عہدیداروں نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ معاملے کی مکمل چھان بین جاری ہے۔

تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس ابتدائی اندازے کی بنیاد کون سے شواہد ہیں، حملے میں کس نوعیت کا اسلحہ استعمال ہوا، اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے یا مدرسے کو نشانہ بنانے کی ممکنہ وجہ کیا تھی۔

امریکی وزیر دفاع نے بدھ کے روز تصدیق کی کہ امریکی فوج اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ آئندہ سامنے آنے والے شواہد امریکہ کو اس واقعے کی ذمہ داری سے بری قرار دیں اور کسی دوسرے فریق کی نشاندہی کریں۔

یہ مدرسہ جنوبی ایران کے شہر میناب میں واقع تھا جہاں ہفتے کے روز امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے آغاز کے پہلے دن اسے نشانہ بنایا گیا۔ جنیوا میں اقوام متحدہ کے لیے ایران کے سفیر علی بحرینی کے مطابق اس حملے میں ایک سو پچاس طالبات جاں بحق ہوئیں، تاہم اس تعداد کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

امریکی فوج کے مرکزی کمان کے ترجمان کیپٹن ٹموتھی ہاکنز نے کہا کہ چونکہ معاملہ زیرِ تحقیق ہے اس لیے اس پر تبصرہ کرنا مناسب نہیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے بھی واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت کسی اسکول، اسپتال یا دیگر شہری تنصیبات کو دانستہ نشانہ بنانا جنگی جرم قرار دیا جا سکتا ہے۔ اگر اس حملے میں امریکی کردار ثابت ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران شہری ہلاکتوں کے بدترین واقعات میں شمار ہو سکتا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos