مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باعث فضائی سفر شدید متاثر

[post-views]
[post-views]

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باوجود متحدہ عرب امارات کی فضائی کمپنیوں نے محدود پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امارات اور اتحاد ایئر ویز نے جمعہ کے روز اپنے مراکز سے دنیا کے چند اہم شہروں کے لیے محدود پروازیں بحال کیں، تاہم میزائل حملوں کے خطرے کے باعث فضائی کمپنیوں کو مسافروں کو سہولت فراہم کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد سے خطے کے بیشتر فضائی راستے میزائل اور ڈرون حملوں کے خدشات کے باعث بند ہیں۔ اس صورتحال میں حکومتیں چارٹر پروازوں کا انتظام کر رہی ہیں اور محدود تجارتی پروازوں میں نشستیں حاصل کر کے ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات تک منتقل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

فرانسیسی وزیر ٹرانسپورٹ فلپ تابارو کے مطابق فرانس کے شہریوں کو واپس لانے کے لیے بھیجی گئی سرکاری پرواز کو جمعرات کے روز علاقے میں میزائل فائرنگ کے باعث واپس موڑنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال خطے میں عدم استحکام اور انخلا کی کارروائیوں کی پیچیدگی کو ظاہر کرتی ہے۔

ادھر اتحاد ایئر ویز نے اعلان کیا ہے کہ انیس مارچ تک محدود پروازوں کا شیڈول جاری رکھا جائے گا، جس کے تحت ابو ظہبی سے لندن، پیرس، فرینکفرٹ، دہلی، نیویارک، ٹورنٹو اور تل ابیب سمیت تقریباً ستر مقامات کے لیے پروازیں چلائی جائیں گی۔

دبئی ہوائی اڈے پر پروازوں کی آمدورفت میں بدھ کے مقابلے میں اضافہ ہوا ہے، تاہم یہ اب بھی معمول کے صرف پچیس فیصد کے قریب ہے۔ دوسری جانب امارات ایئر لائن نے بتایا ہے کہ وہ لندن، سڈنی، سنگاپور اور نیویارک سمیت بیاسی مقامات کے لیے محدود پروازیں چلا رہی ہے۔

اسی دوران تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ہوائی جہاز کے ایندھن کی قیمتیں بھی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہیں، جس سے فضائی کمپنیوں کے اخراجات میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ دوسری طرف خطے سے نکلنے کے لیے مسافروں کو بھاری رقم ادا کرنا پڑ رہی ہے اور کئی مسافروں نے اپنے وطن واپسی کے عمل کو شدید بدنظمی اور افراتفری سے تعبیر کیا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos