قرارداد، شاد باد اور منزل مراد


کہتےہیں کہ پاکستان بننے کے کچھ عرصہ بعد ہندوستان کے ادیب حضرات کا ایک وفد پاکستان آیا۔ وفد کو بڑی پذیرائی دی گئی ۔خاطر مدارت میں کوئی کسر نہ چھوڑی گئی۔لذیذ ترین کھانے کھلائے گئے ۔ دنیا جہان کی بہترین سبزیاں پکائی گئیں۔ پہلے دن وفد کے ارکان نے کھانےکی بہت تعریف کی۔دوسرے دن اتنی رغبت سےکھانا نہیں کھایا۔ تیسرے دن ایک صاحب کہنے لگے “اگر آپ نے یہی کچھ کھانا تھا تو پھر الگ وطن بنانے کی کیا ضرورت تھی؟” الگ وطن بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ یہ انتہائی اہم سوال ہے ۔

موجودہ حالات کے تناظر میں یہ سوال مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔میرے پسندیدہ مصنف کے بقول میاں بیوی ہنسی خوشی رہ رہے تھے کہ ایک دن اچانک ان کی ملاقات ہو گئی۔ یہی حال ہندو مسلم کمیونٹی کا تھا ۔ دونوں مذاہب کے لوگ انڈیا میں تب تک خوش رہے جب تک ان کی آپس میں ملاقات نہیں ہوئی اور پہلی ملاقات تب ہوئی جب انگریز کی حکومت قائم ہوئی ۔

Pl, subscribe to the YouTube channel of republicpolicy.com

ایک مفکر کے بقول پاکستان تو اسی دن قائم ہو گیا تھا جب ہندوستان میں پہلے شخص نے اسلام قبول کیا تھا ۔مسلمانوں کی ہندوستان آمد کی تاریخ بہت پرانی ہے ۔اسلام کے ابتدائی دور سے ہی عرب تاجر ہندوستان آتے جاتے تھے۔ مسلم کمیونٹی کے ساتھ بحث یت مجموعی ہندو کمیونٹی کا رویہ کبھی کشادہ دلی کا نہیں رہا ۔

مسلمان فاتحین آتے رہے۔ اس بابت دو رائے ہو سکتی ہیں کہ مسلم حملہ آور اسلام پھیلانے کیلئے آتے تھے یا ہندوستان کی دولت سے فائدہ اٹھانے کیلئے ۔لیکن اس امر سے انکار نا ممکن ہے کہ مسلم حکمرانوں کی اکثریت نے ہمیشہ مقامی آبادی کے ساتھ انتہائی اعلی ظرفی اور کشادہ دلی کا مظاہرہ کیا۔

ہماری مقامی زبان کا ایک محاورہ ہے ” آئی تھی آگ لینے، بن گئی گھر کی مالک” انگریز کی برصغیر میں حکمرانی کی بھی یہی کہانی ہے ۔انگریز تجارت کے لیے آئے۔ مسلم حکمرانوں سے معمولی مراعات مانگتے مانگتے ایک دن مسلمانوں کے ہی حاکم بن بیٹھے۔

ہندو اور انگریز مسلم دشمنی میں اکٹھےہو گئے۔ مسلمانوں کو خوب اندازہ ہوا کہ پڑوسی اچھے نہ ہوں تو انسان پہ کیا کیا قیامت گزرتی ہے۔ ہندوؤں کی اکثریت نے مسلمانوں کےدور اقتدار کا بدلہ لینے کی پوری کوشش کی۔اگرچہ کسی مسلم حکمران نے اپنے دور اقتدار میں ہندو دشمنی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ہماری خوش قسمتی کہ ہمیں دور ابتلا میں سر سید جیسے عظیم رہنما میسر آئے۔

سر سید نے ابتدا ہی سے مسلمانوں کی نصیحت کی کہ وہ اپنا الگ قومی تشخص بر قرار رکھیں ۔اٹھارہ سو ستاون سے لے کر انیس صد سینتالیس تک تحریک آزادی کے دوران مسلم رہنماؤں کی پوری ایک کہکشاں کی ضو فشانی نے قوم کا مقدر تاریک نہیں ہونے دیا۔ اللہ تعالی کی ذات کی مہربانی سے مسلمانوں کا الگ تشخص برقرار رہا اگرچہ انگریز اور ہندو متحد ہو کر پوری کوشش کرتے رہے کہ مسلمانوں کی علیحدہ شناخت مٹ جائے۔

سر سید احمد خان کی وفات کے بعد مسلم لیگ کی قیادت نے مسلمانوں کی رہنمائی کا حق ادا کر دیا۔ علامہ اقبال نے خطبہ آلہ ٰآباد میں پاکستان کا ابتدائی تصور پیش کیا ۔ اسی لیے انہیں بجا طور پر مفکر پاکستان اور مصور پاکستان کہا جاتا ہے۔ علامہ اقبال نے اپنی محدودعمر میں آنے والی صدیوں کا کام بھی کر دیا۔ وہ ہمارے قومی شاعر ہیں ۔انہوں نے پاکستان کا خواب دیکھا۔ خواب کو تعبیر دینے کیلیے مسلم لیگ کے لاہور میں منعقدہ اجلاس میں بنگال کے شیر، مولوی اے کے فضل حق نے ایک قرارداد پیش کی جسے ابتدائی طور پر قرار داد لاہور کہا گیا۔

اس قرار داد سے مسلم کو قرار ملا تو ہندو اخبارات نے قرار داد کو قرارداد ِپاکستان کا نام دےکربہترین داد دی ۔بعد از قرارداد ، مسلم ہو گئے شاد باد، حاصل ہو گئی منزل مراد ،وجود میں آگئی مملکت خداداد ۔اقبال کے خواب کو مکمل عملی تعبیر جناح نے عطا کی جنہوں نے 1947 میں مسلمانوں کے لیے ایک الگ و طن حاصل کر لیا ۔ اکیلے آدمی نے تن تنہا اقبال کے فلسفے پر عمل کرتے ہوئے ثابت کر دیا ” ایک شاہین کافی ہے باقی نفری اضافی ہے”۔حضرت محمد علی جناح ،جو مسلمانوں کے قائد اعظم ہیں، کیلیے بجا طور پر کہا جا سکتا ہے؏” شاہین کا جہاں اور کرگس کا جہاں اور” بنگلہ دیش بنا تو ایک بھارتی رہنما نے بڑے فخر سے کہا ” ہم نے آج نظریہ پاکستان کو بحیرہ عرب میں ڈبو دیا ہے”۔ جب بنگلہ دیش نے سیکولر رہنے کی بجاۓ سرکاری مذہب کے طور پر اسلام کا انتخاب کیا تو بھارتیوں کی خوشی خاک میں مل گئی۔

اللہ تعالی کا شکر ہے کہ آج بنگلہ دیش کے لوگوں کو احساس ہو گیا ہے کہ پاکستان کا قیام ان کے بزرگوں کی بھی محنت کا ثمر تھا اور متحدہ پاکستان کا قائم رہنا بنگالیوں کے لیے کتنا اہم تھا۔ایک طبقہ پاکستان کے قیام کے روز اولین سے فقط اسی تگ و دو میں مصروف ہے کہ ہماری نوجوان نسل کو بہکایا جاۓ، وطن کی محبت ان کے دل سے نکال کر ان کے ذہن میں شکوک و شبہات پیدا کیے جائیں ۔ ان کا عرصہ دراز سے یہی مشن ہے کہ پاکستانیت کو پنپنے نہ دیا جاۓ۔

اللہ تعالی کے فرمان کا مفہوم ہے کہ کفار اپنی تدبیریں کرتے ہیں اور اللہ تعالی اپنی تدبیر کرتا ہے اور اللہ تعالی سب سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔یہ دھرتی ہماری ماں ہے۔ انسان کی تاریخ شاہد ہے کہ جو اپنی ماں کی عزت نہیں کرتا، دنیا میں اس کی کوئی عزت نہیں ہوتی ۔ پاکستان کے قیام کے مقاصد حاصل ہوئے ہیں یا کوئی کمی رہ گئی ہے، اس بابت بحث کی جا سکتی ہے مگر دنیا بھر میں پاکستان کے علاوہ ہمارے پاس پناہ گاہ کونسی ہے۔؟ پوری دنیا کے مسلمانوں کا حال ہم دیکھ رہے ہیں۔ فلسطین میں جو کچھ مسلمانوں کے ساتھ ہو رہا ہے وہ بھی ہماری نظروں کے سامنے ہے۔

ایک صاحب علم کے بقول مسلمانوں نے اسلام کو نہیں بچایا اسلام نے ہمیشہ مسلمانوں کو بچایا ہے ۔ پاکستانیوں نے پاکستان کو نہیں بچایا, پاکستان نے ہمیشہ پاکستانیوں کو بچایا ہے۔پاکستان آج بھی کسی مہربان ماں کی طرح ہم سب کو اپنی آغوش میں لیے ہوئے ہے۔ ہمیں غلطیاں کرتے ایک صدی ہونے کو آئی ہے لیکن دھرتی ماں نے ہم سے اپنا مکھ نہیں موڑا ، رخ نہیں پھیرا ۔اولاد اچھی ہو یا بری ،ماں کی تو محبوب ہوتی ہے۔

پا کستان نے ہمیشہ ہمیں نوازا ہے ،ہم نے وطن کا مان نہیں رکھا ۔کہتے ہیں کہ ایک شخص کو بہت نعمتوں سے نوازا گیا مگر اس نے نعمتوں کی قدر نہ کی۔اسے خواب میں ایک عبارت نظر آتی تھی” تم کو تولا گیا اور کم پایا گیا”۔ یہ بات ہم سب پر بھی صادق آتی ہے۔ہم کو تولا گیا اور کم پایا گیا۔ہم نے وطن اور اہل وطن کا حق ادا نہیں کیا۔ اک محاورے کے مطابق “کبھی بھی اتنی دیر نہیں ہوتی کہ معاملات سدھارے نہ جا سکیں”۔ ہم اب بھی وطن کا قرض چکا سکتے ہیں، پاکستان کے حصول کے تمام مقاصد حاصل کر سکتے ہیں۔ طویل ترین سفر بھی پہلے قدم سے ہی شروع ہوتا ہے۔آئیے پہلا قدم اٹھاتے ہیں۔خود کو سچا پاکستانی بناتے ہیں۔وطن سے محبت کا فرض نبھاتے ہیں۔
؎جب اپنا قافلہ عزم و یقیں سے نکلے گا
جہاں سے چاہیں گے راستہ وہیں نکلے گا
اور جو بانٹے گا دنیا میں روشنی اپنی
وہ آفتاب اسی سر زمیں سے نکلے گا
اے وطن کی مٹی ہمیں ایڑیاں رگڑنے دے
ہمیں ہے یقیں کہ چشمہ یہیں سے نکلے گا

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos