شہری سیلاب نے پاکستان کی منصوبہ بندی کا پول کھول دیا

[post-views]
[post-views]

ادارتی تجزیہ

حال ہی میں پاکستان کے بڑے شہروں میں آنے والے شہری سیلاب نے ایک بار پھر ہماری شہری منصوبہ بندی کی سنگین کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ سڑکیں پانی میں ڈوب گئیں، نکاسیٔ آب کا نظام ناکام ہو گیا، اور شہری زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔ یہ اب صرف قدرتی آفات نہیں رہیں، بلکہ ایک ناقص نظام کی علامت بن چکی ہیں۔

اس بحران کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں شہروں کی ترقی ماہر شہری منصوبہ سازوں کی بجائے عمومی بیوروکریسی کے سپرد ہے، جو اس فیلڈ کی نہ تو تربیت رکھتی ہے اور نہ ہی جدید تقاضوں کو سمجھتی ہے۔ ایسے افسران جو کبھی تعلیم، کبھی صحت اور کبھی زراعت کے شعبے چلا رہے ہوتے ہیں، وہی شہری منصوبہ بندی کی باگ ڈور سنبھالے ہوتے ہیں، جس کا نتیجہ غیر سائنسی، غیر مربوط اور تباہ کن انفراسٹرکچر کی صورت میں نکلتا ہے۔

Please, subscribe to the YouTube channel of republicpolicy.com

اس کے ساتھ ہی لینڈ مافیا کا کردار نہایت خطرناک ہو چکا ہے۔ یہ مافیا نہ صرف قدرتی آبی گزرگاہوں پر قبضہ کرتا ہے بلکہ غیر قانونی تعمیرات کے ذریعے شہر کو کنکریٹ کا جنگل بنا چکا ہے۔ بدقسمتی سے اس مافیا کو بیوروکریسی کے بعض عناصر کی پشت پناہی بھی حاصل ہے، جس سے شہر مکمل طور پر غیر منصوبہ بند ہو گئے ہیں۔

اب وقت آ چکا ہے کہ پاکستان ایک جامع اور ماہر شہری منصوبہ بندی کے نظام کی بنیاد رکھے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے آزاد، خودمختار اور تکنیکی ادارے قائم کرے جو ماہرین شہریات، ماحولیاتی انجینئرز، اور موسمیاتی ماہرین پر مشتمل ہوں۔ بیوروکریسی کو صرف انتظامی کردار تک محدود رکھا جائے۔

اگر ہم واقعی موسمیاتی تبدیلیوں کے تقاضوں سے ہم آہنگ شہر چاہتے ہیں تو ہمیں ماہرین کو پالیسی سازی کا اختیار دینا ہو گا۔ شہری سیلاب ایک انتباہ نہیں، بلکہ موجودہ نظام کے خلاف ایک فیصلہ ہے۔ اب اصلاح کے سوا کوئی راستہ نہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos