جی سیون ممالک کے وزرائے خارجہ نے کینیڈا میں ہونے والے اجلاس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں ایک مرتبہ پھر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کی حمایت کا اعادہ کیا۔ وزرائے خارجہ نے غزہ میں اسرائیلی یرغمالیوں کی باقیات کی فوری واپسی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس انسانی مسئلے کو مزید طول نہیں دیا جا سکتا۔
اعلامیے میں غزہ میں جاری انسانی بحران کا تفصیلی جائزہ بھی لیا گیا۔ وزرائے خارجہ نے امدادی سامان کی ترسیل میں رکاوٹوں پر گہری تشویش ظاہر کی اور تمام متعلقہ فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ہر قسم کی پابندیاں ہٹا کر بڑے پیمانے پر انسانی امداد کو غزہ پہنچانے کی اجازت دیں۔ جی سیون کے مطابق لاکھوں بے گھر اور متاثرہ شہریوں تک خوراک، پانی، ادویات اور دیگر ضروریات کی فراہمی کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔
اجلاس میں یوکرین کی صورتحال بھی مرکزی موضوع رہی۔ وزرائے خارجہ نے روس کی جانب سے یوکرین کے توانائی ڈھانچے پر مسلسل حملوں کی سخت مذمت کی اور اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔ مشترکہ اعلامیے میں روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کے لیے کوششوں کو تیز کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ خطے میں مستقل امن صرف سفارتکاری اور بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔








