دبئی حکومت نے مالی سال 2026 کے لیے اپنی تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ منظور کر لیا ہے، جسے تین سالہ مالی منصوبے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق، اس تین سالہ بجٹ کا مجموعی حجم 302.7 ارب درہم ہے، جبکہ متوقع آمدن 329.2 ارب درہم رکھی گئی ہے، جس سے پانچ فیصد کا مثبت سرپلس سامنے آنے کی توقع ہے۔ اس بجٹ کی منظوری دبئی کی اقتصادی ترقی کی مضبوط بنیاد رکھنے کے ارادے کے تحت دی گئی ہے، تاکہ شہر کی عالمی اقتصادی پوزیشن مزید مستحکم کی جا سکے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2026 کے لیے کل اخراجات 99.5 ارب درہم مقرر کیے گئے ہیں۔ اس میں سماجی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے اور اس کے لیے بجٹ کا 28 فیصد حصہ مختص کیا گیا ہے، جس میں صحت، تعلیم اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبے شامل ہیں۔ انفراسٹرکچر کے شعبے پر بھی کافی زور دیا گیا ہے اور اخراجات کا 48 فیصد حصہ شہر کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری، سڑکوں، ٹرانسپورٹ نیٹ ورک اور دیگر شہری سہولیات پر خرچ کیا جائے گا۔ اس سے نہ صرف روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا بلکہ دبئی کی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی بڑھ جائے گی۔
دبئی حکومت نے واضح کیا ہے کہ آئندہ دس برسوں میں شہر کی مجموعی معیشت کو دوگنا کرنے کا ہدف ہے۔ اس کے ساتھ دبئی کو دنیا کی ٹاپ 3 شہری معیشتوں میں شامل کرنے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے، جس کے لیے سرمایہ کاری، انفراسٹرکچر اور سماجی ترقی کے منصوبے تیز رفتار سے جاری رہیں گے۔ حکومتی حکمت عملی کے مطابق، مالی استحکام اور سماجی شعبے کی ترقی کو ساتھ لے کر چلنا اولین ترجیح ہے۔
مزید برآں، دبئی نے اپنی کیش لیس اسٹریٹیجی کو تیز کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ حکومت نے اعلان کیا کہ حکومتی کانٹیکٹ سینٹرز شہریوں اور سرکاری محکموں کے درمیان رابطے کو مزید آسان اور مؤثر بنائیں گے۔ اس کے ذریعے نہ صرف عوام کو سروسز تک رسائی میں سہولت ہوگی بلکہ سرکاری عملے کی کارکردگی میں بھی بہتری آئے گی۔ اس اقدام کا مقصد شفافیت کو بڑھانا اور شہری خدمات کی فراہمی کو تیز تر اور موثر بنانا ہے، تاکہ دبئی کی عالمی سطح پر ساکھ اور اقتصادی ترقی کی رفتار برقرار رہے۔
یہ بجٹ نہ صرف مالی استحکام کی ضمانت دیتا ہے بلکہ دبئی کی معیشت کو عالمی سطح پر مسابقت کے لیے تیار کرنے کے لیے بھی ایک اہم قدم ہے۔ اس میں سماجی فلاح، بنیادی ڈھانچہ، ٹیکنالوجی اور شہری سہولیات کے شعبے میں متوازن ترقی کی واضح حکمت عملی سامنے آئی ہے، جو شہر کو مستقبل میں اقتصادی اور سماجی اعتبار سے مزید مضبوط بنائے گی۔












