گنی بساؤ میں فوج نے صدر اومارو سسکو ایمبالو کو اقتدار سے ہٹا دیا ہے اور ملک کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔
سرکاری ٹیلی وژن پر جاری بیان میں فوجی افسران نے اعلان کیا کہ حکومت برطرف کر دی گئی ہے، صدارتی انتخابی عمل معطل کر دیا گیا ہے، ملک کی سرحدیں بند کر دی گئی ہیں اور کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ فوجی قیادت نے بتایا کہ ایک اعلیٰ عسکری کمان تشکیل دی گئی ہے جو اگلے حکم تک ملک کا انتظام سنبھالے گی۔
یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب صدارتی انتخابات کے عبوری نتائج سامنے آنے والے تھے۔ فوجی اعلان سے کچھ دیر قبل دارالحکومت بساؤ میں الیکشن کمیشن، صدارتی محل اور وزارت داخلہ کے قریب فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں، تاہم کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔
انتخابات میں صدر ایمبالو کا مقابلہ ان کے حریف فرننڈو ڈیاس سے تھا، اور دونوں امیدواروں نے پہلے مرحلے میں اپنی جیت کے دعوے کر رکھے تھے۔ صدر کے ترجمان نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن پر حملہ فرننڈو ڈیاس کے حامیوں نے کیا تاکہ نتائج کا اعلان روکا جا سکے، تاہم اس دعوے کے ثبوت ابھی تک سامنے نہیں آئے۔
فرننڈو ڈیاس اور ان کے اتحادی سابق وزیر اعظم ڈومِنگوس سیموئز پریئرا نے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی نتائج سے قبل پیدا ہونے والی کشیدگی میں ان کا کوئی کردار نہیں ہے۔
تاریخی پس منظر کے مطابق، گنی بساؤ 1974 میں آزادی حاصل کرنے کے بعد سے متعدد فوجی بغاوتوں کا شکار رہا ہے۔ صدر ایمبالو نے بھی بتایا کہ وہ اپنے دور میں تین قاتلانہ حملوں سے بچ چکے ہیں، جس سے ملک میں سیاسی کشیدگی کی لمبی تاریخ واضح ہوتی ہے۔












