ادارتی تجزیہ
پاکستان آج کسی بھی بڑے سیاسی جماعت کی جانب سے واضح، معتبر یا عملیاتی حکمرانی کے منصوبے کے بغیر خود کو پاتا ہے۔ کسی بھی ریاستی ادارے نے ایسا جامع فریم ورک تیار نہیں کیا جو ملک کو مستحکم اور پائیدار مستقبل کی طرف رہنمائی کرسکے۔ ایسے نقشے کی غیر موجودگی میں قومی حکمرانی عموماً ردعمل پر مبنی، عارضی اور سیاسی تبدیلیوں کے تابع رہتی ہے۔ ملک کو فوری طور پر ایک طویل مدتی حکمرانی کا خاکہ درکار ہے جو سیاسی جماعتوں، ریاستی اداروں، اقتصادی شرکاء اور سماجی اسٹیک ہولڈرز کو شامل کرکے قومی اتفاق رائے کے ذریعے تیار کیا جائے۔
یہ حکمرانی منصوبہ کم از کم دو دہائیوں کے لیے تسلسل کی ضمانت دینا چاہیے، چاہے حکومت کسی بھی سیاسی جماعت کی ہو۔ پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج ہمیشہ پالیسی میں تسلسل کی کمی رہا ہے، جہاں ہر نئی انتظامیہ پچھلی انتظامیہ کی ترجیحات کو پلٹ دیتی ہے۔ ایک مستحکم فریم ورک، جو سیاسی مقاصد سے آزاد ہو، ٹیکس، عوامی خدمات کی فراہمی، تعلیم، صحت کی دیکھ بھال، اور اقتصادی نظم و نسق میں اصلاحات کے لیے ناگزیر ہے۔ صرف ایک قومی اتفاق رائے سے تیار شدہ فریم ورک یہ یقینی بنا سکتا ہے کہ حکمرانی سیاسی مقابلے یا عارضی مفادات کی شکار نہ بنے۔
پائیدار ترقی کے لیے ایک منصوبہ بند، ادارہ جاتی اور طویل مدتی حکمرانی منصوبہ ناگزیر ہے۔ وہ ممالک جو خود کو بدل چکے ہیں۔ چاہے ایشیا میں ہوں، مشرق وسطیٰ میں یا افریقہ میں—انہوں نے یہ طویل مدتی، مربوط اور اتفاق رائے پر مبنی فریم ورک کے ذریعے کیا۔ پاکستان کو بھی اسی طرح کے ڈھانچے کی ضرورت ہے: ایک ایسا فریم ورک جو سیاسی دورانیوں سے بچ جائے، پالیسی کی پیش گوئی کو فروغ دے اور ادارہ جاتی صلاحیت کو مضبوط کرے۔ یہ ڈھانچہ نہ صرف معیشت کو مستحکم کرے گا بلکہ عوامی اعتماد کو بھی ریاستی اداروں میں بڑھائے گا۔
صرف ایک مربوط، متحد اور مستقل حکمرانی ماڈل پاکستان کو دو دہائیوں کے ترقی اور استحکام کے راستے پر مستحکم طور پر رکھ سکتا ہے۔ انتخاب واضح ہے: یا تو منتشر اور سیاسی حکمرانی کے ساتھ آگے بڑھیں یا آخرکار وہ مشکل مگر ضروری کام کریں اور قومی حکمرانی معاہدہ قائم کریں۔













