ٹرمپ کی امیگریشن روکنے اور غیر ملکی مراعات ختم کرنے کا اعلان

[post-views]
[post-views]

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اُن کی انتظامیہ ترقی پذیر اور تیسری دنیا کے ملکوں سے آنے والی ہجرت کو مستقل طور پر روکنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ امریکی معاشی اور انتظامی نظام کو اُن کے بقول دوبارہ بحال اور مضبوط کیا جا سکے۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ میں مقیم غیر ملکیوں کے لیے وفاقی سطح پر فراہم کی جانے والی تمام مراعات کو بھی ختم کیا جائے گا۔

ٹرمپ کے مطابق ان کی پالیسی کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ جو لوگ امریکہ کے لیے اثاثہ ثابت نہیں ہوتے، انہیں ملک میں رہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ غیر شہریوں کے تمام وفاقی فوائد ختم کیے جائیں گے، ایسے تارکین وطن کی قانونی شہریت واپس لے لی جائے گی جو داخلی امن کے لیے خطرہ ہوں، اور ہر وہ غیر ملکی ملک بدر کیا جائے گا جو امریکی عوام پر بوجھ ہو، سیکیورٹی کے لیے خطرہ بنے یا امریکی اور مغربی تہذیبی اقدار سے ہم آہنگ نہ ہو۔

سابق صدر نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ یہ منصوبہ جو بائیڈن انتظامیہ کے دوران منظور کیے گئے غیر قانونی امیگریشن کے کیسز کو بھی شامل کرے گا اور اُن کی مکمل جانچ پڑتال کی جائے گی۔

اس سلسلے میں امریکی حکام نے حالیہ واقعے کا حوالہ بھی دیا ہے جس کے تحت بدھ کے روز وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کرنے والا شخص ایک افغان شہری تھا جو 2021 میں ری سیٹل منٹ پروگرام کے تحت امریکہ لایا گیا تھا۔ واقعے میں نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں ایک خاتون اہلکار جاں بحق اور ایک زخمی ہوا۔

اس واقعے کے بعد امریکی سیاسی حلقوں میں مہاجرین اور سکیورٹی سے متعلق بحث نے مزید شدت اختیار کر لی ہے، جبکہ ٹرمپ کے بیانات نے امیگریشن پالیسی پر قومی سطح پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos