حماس کی حملوں میں کمی کی مشروط آمادگی، غیر مسلح ہونے سے دوٹوک انکار

[post-views]
[post-views]

فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے عالمی قوتوں پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ بندی کو مؤثر طور پر برقرار رکھنے کے لیے اسرائیل پر دباؤ میں اضافہ کریں۔ عرب میڈیا کے مطابق حماس کے سینئر رہنما حسام بدران نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیل کی فوجی کارروائیاں اسی رفتار سے جاری رہیں تو موجودہ سیز فائر زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلسل بمباری اور زمینی حملے جنگ بندی کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں، جس سے امن کی ہر کوشش کمزور پڑ رہی ہے۔

حسام بدران نے یہ بھی واضح کیا کہ حماس غزہ کی حکومت سنبھالنے کی خواہش مند نہیں بلکہ خطے میں ایک ٹیکنوکریٹک انتظامیہ کے قیام کی حمایت کرتی ہے، تاکہ شہریوں کو زیادہ مستحکم اور غیر جانب دار نظام مل سکے۔ ان کے مطابق عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسرائیل پر طے شدہ نکات پر فوری عملدرآمد کے لیے دباؤ ڈالے، کیونکہ معاہدے کی خلاف ورزی کی قیمت ہمیشہ فلسطینی عوام کو چکانی پڑتی ہے۔

دریں اثناء فلسطینی وزارت صحت نے بتایا کہ 10 اکتوبر کے سیز فائر معاہدے کے بعد بھی اسرائیلی فورسز کی کارروائیاں جاری رہی ہیں، جن میں اب تک 377 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ وزارت کے مطابق یہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ جنگ بندی کی خلاف ورزی نہ صرف جاری ہے بلکہ اس کے انسانی اثرات بھی انتہائی سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos