بنگلادیش میں شریف عثمان ہادی کے قتل کے بعد بھارت کے خلاف مظاہرے اور پرتشدد واقعات

[post-views]
[post-views]

بنگلادیش میں طالبعلم رہنما شریف عثمان ہادی کے قتل کے بعد دارالحکومت ڈھاکا اور دیگر شہروں میں بھارت کے خلاف مظاہرے اور پرتشدد واقعات شروع ہو گئے ہیں۔

مظاہرین نے کارواں بازار میں دو اخباروں کے دفاتر نذر آتش کیے اور عثمان ہادی کے حق میں نعرے لگائے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حملے کے ذمہ داروں کو فوری انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

اطلاعات کے مطابق مظاہرین اور حفاظتی اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں بھی ہو رہی ہیں۔

شریف عثمان ہادی کو گزشتہ جمعہ ڈھاکا میں موٹرسائیکل سواروں نے سر پر گولی مار دی تھی۔ انہیں سنگارپور جنرل اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ جمعرات کی شب دم توڑ گئے۔

قاتل فیصل کریم مسعود اور موٹر سائیکل چلانے والے عالمگیر شیخ بھارت کی سرحد سے غیر قانونی طور پر داخل ہوئے اور بعد میں فرار ہو گئے۔ اب تک چودہ افراد کو گرفتار کر کے تفتیش کی جا رہی ہے۔

عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے قتل کو انتخابات سبوتاژ کرنے کی سازش قرار دیا اور ہفتہ کو یوم سوگ کا اعلان کیا۔

واضح رہے کہ بنگلادیش میں طلبہ تحریک کے نتیجے میں وزیراعظم شیخ حسینہ واجد 15 برسہ اقتدار چھوڑ کر بھارت فرار ہوئیں، اور نومبر میں انسانیت کے خلاف جرائم پر سزائے موت سنائی گئی تھی، جس میں 1,400 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos