ترک عوام نے فلسطین کی حمایت میں استنبول میں تاریخ رقم کی

[post-views]
[post-views]

نئے سال کی پہلی صبح استنبول نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ فلسطین ترک عوام کے اجتماعی ضمیر کا حصہ ہے۔ شدید سردی کے باوجود پانچ لاکھ سے زائد افراد غزہ میں اسرائیلی حملوں اور انسانی المیے کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے اور استنبول کو حالیہ برسوں کے سب سے بڑے فلسطین حمایت مظاہرے کا مرکز بنا دیا۔

احتجاج ’’ہم دبنے والے نہیں، ہم خاموش نہیں، ہم فلسطین کو نہیں بھولیں گے‘‘ کے عنوان سے منعقد ہوا، جس میں سول سوسائٹی تنظیمیں، ٹریڈ یونینز، سماجی پلیٹ فارمز اور کھیلوں کے کلب شامل تھے۔ مظاہرے کا آغاز فجر کی نماز کے بعد تاریخی مساجد سے ہوا اور تمام قافلے گلاتا پل پر یکجا ہو گئے، جہاں انسانی سمندر کی شکل اختیار کی۔

مظاہرین کے ہاتھوں میں ترکی اور فلسطین کے پرچم تھے اور نعرے بلند کر رہے تھے، جبکہ کشتیوں پر سوار افراد نے مشعلیں روشن کیں۔ سیاسی، مذہبی اور سماجی قیادت بھی عوام کے ساتھ شریک تھی۔

خطاب میں بلال اردوان نے کہا کہ غزہ میں صورتحال انسانی المیہ اور عالمی اخلاقی دیوالیہ پن کی علامت ہے۔ یہ نسل کشی بموں، بھوک، پیاس، سردی اور امداد کی بندش کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کی تباہی کا بوجھ فلسطینی عوام یا دیگر ممالک پر نہیں ڈالا جا سکتا، بلکہ اسے تباہ کرنے والے ہی دوبارہ تعمیر کریں گے۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ ترک عوام فلسطین کو کبھی نہیں بھولیں گے اور جدوجہد غزہ، القدس اور مسجد اقصیٰ کی آزادی تک جاری رہے گی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos