پنجاب اسمبلی نے سول سروسز میں صوبائی خودمختاری کا مؤقف مضبوط

[post-views]
[post-views]

ادارتی تجزیہ

صوبائی سروسز اور انتظامیہ کے امور پر آئینی حقوق کے تحفظ کے سلسلے میں پنجاب اسمبلی میں ہونے والی حالیہ بحث ایک نہایت اہم موقع ثابت ہوئی۔ اس اجلاس میں صوبائی سول سروس کے عہدوں کی ملکیت اور کنٹرول کے حوالے سے متفقہ موقف اختیار کیا گیا، جس میں نہ صرف حزبِ اختلاف بلکہ حکومتی ارکان نے بھی اس امر کی تائید کی کہ صوبائی انتظامیہ کے معاملات مکمل طور پر صوبوں کے اختیار میں ہیں۔ اس موقع پر اٹھائے گئے سوالات پاکستان کے سول سروس کے ڈھانچے اور وفاقی اثر و رسوخ کے کردار پر گہرے غور و فکر کا باعث بنے۔

معزز اراکین جیسے کہ سید ذوالفقار شاہ، امجد علی جاوید، احمد اقبال اور راجہ صاحب نے زور دے کر کہا کہ تمام صوبائی عہدے آئینی طور پر صوبائی اسمبلی کی ملکیت ہیں۔ انہوں نے اس امر پر بھی روشنی ڈالی کہ نہ تو وفاقی حکومت اور نہ ہی  انتظامی ڈویژن کے پاس اختیار ہے کہ وہ کسی بھی ایگزیکٹو حکم یا انتظامی ہدایت کے ذریعے ان عہدوں پر قابو پائیں۔ اس بیان سے واضح ہوا کہ صوبائی خودمختاری نہ صرف آئینی حق ہے بلکہ اس کا احترام ہر ادارے پر لازم ہے۔

ویب سائٹ

بحث کا ایک اہم نکتہ یہ تھا کہ چیف سیکرٹری کے وفاق کی جانب سے تعینات ہونے کی قانونی بنیاد غیر واضح ہے۔ آئین کے آرٹیکل ۲۴۰ (بی) میں صاف طور پر بیان کیا گیا ہے کہ صوبائی خدمات اور عہدے صرف صوبوں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ اراکین نے متفقہ طور پر کہا کہ صوبائی خودمختاری آئین کی روح ہے اور صوبوں کو اپنے آئینی اختیارات آزادانہ طور پر استعمال کرنے کی مکمل آزادی ہونی چاہیے، بغیر کسی بیرونی مداخلت کے۔

مزید برآں، ایک اور اہم مسئلہ جس پر بحث کی گئی وہ آئینی اصولوں سے انحراف تھا۔ آئین کے مطابق محکمہ جاتی سربراہوں کو وزراء ہونا چاہیے، نہ کہ سیکرٹریز۔ لیکن عملی طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ سیکرٹریز کو بطور سربراہ تعینات کیا گیا، جو آئینی فریم ورک کے منافی ہے۔ اس عمل نے صوبائی انتظامیہ کی خودمختاری پر براہِ راست اثر ڈالا اور آئینی قواعد کی خلاف ورزی کو ظاہر کیا۔

یوٹیوب

پنجاب اسمبلی کا یہ متفقہ اور واضح موقف صوبائی حقوق کے تحفظ میں ایک تاریخی قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس سے یہ پیغام ملتا ہے کہ صوبوں کو اپنے آئینی اختیارات کے استعمال میں آزادانہ طور پر فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے اور دیگر صوبائی اسمبلیوں کے لیے بھی یہ ایک مثال قائم کرتا ہے کہ وہ اس اہم معاملے کو اجاگر کریں۔ اس اقدام سے آئینی حدود کے احترام اور صوبائی انتظامیہ کی خودمختاری کی حفاظت کے اصول کو مضبوط کرنے میں مدد ملے گی۔

مستقبل میں جب یہ بحث جاری رہے گی، تو یہ صوبائی انتظامیہ اور وفاق کے تعلقات میں نئے توازن کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اس سے نہ صرف آئینی ضوابط کی پاسداری کو فروغ ملے گا بلکہ صوبائی سطح پر انتظامی کارکردگی اور شفافیت کو بھی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ واضح طور پر، آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے سیاسی اور انتظامی عزم ضروری ہے اور اس حوالے سے پنجاب اسمبلی نے ایک مضبوط اور متفقہ مثال قائم کی ہے۔

ٹوئٹر

یہ بحث پاکستان میں صوبائی خودمختاری کے حوالے سے ایک نئی راہ ہموار کرتی ہے اور آئینی اصولوں کے نفاذ میں رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ صوبائی انتظامیہ کو اپنے اختیارات کے تحفظ کے لیے آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے فیصلہ کرنے کا موقع ملے گا، جس سے مجموعی طور پر ملکی نظم و نسق میں بہتری آئے گی۔ اس موقع پر صوبائی نمائندوں نے اس بات پر زور دیا کہ آئین میں درج اصولوں کی مکمل پاسداری ہر ادارے پر لازم ہے تاکہ ملک میں عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ کے تعلقات متوازن رہیں اور آئینی خودمختاری کے بنیادی تصور کو مضبوط بنایا جا سکے۔

یوں پنجاب اسمبلی کی اس متفقہ پوزیشن کو نہ صرف تاریخی اہمیت حاصل ہے بلکہ یہ آئینی حقوق کے تحفظ میں ایک سنگِ میل بھی ثابت ہوگی۔ آئینی حدود کی پاسداری اور صوبائی خودمختاری کی حفاظت کی یہ بحث آئندہ اجلاسوں میں بھی جاری رہے گی اور ملک میں انتظامی اور سیاسی توازن کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کرے گی۔

فیس بک

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos