لیبیا کے معزول سابق صدر معمر قذافی کے صاحبزادے سیف الاسلام قذافی کے قتل کی تصدیق ہو گئی ہے۔ قذافی خاندان سے قریبی تعلق رکھنے والے ذرائع نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ سیف الاسلام ایک حملے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ حملہ چار نامعلوم افراد نے کیا، جنہوں نے سیف الاسلام کو ایک باغ میں نشانہ بنایا اور فائرنگ کے بعد موقع سے فرار ہو گئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ حملہ آوروں کے بارے میں فوری طور پر کوئی تفصیل سامنے نہیں آ سکی۔
لیبیا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی “لانا” نے بھی سیف الاسلام قذافی کی موت کی تصدیق کر دی ہے۔ ایجنسی کے مطابق یہ تصدیق ان کے قریبی مشیر عبداللہ عثمان نے کی، جنہوں نے بتایا کہ سیف الاسلام حملے کے نتیجے میں ہلاک ہوئے۔
سیف الاسلام قذافی کو طویل عرصے سے اپنے والد معمر قذافی کا سیاسی جانشین تصور کیا جاتا رہا ہے، اور وہ لیبیا کی سیاست میں ایک اہم اور متنازع کردار سمجھے جاتے تھے۔ انہوں نے 2021 میں ملک کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان بھی کیا تھا، تاہم لیبیا کی غیر مستحکم سیاسی صورتحال کے باعث یہ انتخابات غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیے گئے تھے۔









