امریکی دباؤ کے باوجود فرانس اور کینیڈا کے گرین لینڈ میں قونصل خانے قائم

[post-views]
[post-views]

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں اور دباؤ کے باوجود، فرانس اور کینیڈا نے ڈنمارک کے ساتھ اپنی عملی حمایت کا مظاہرہ کرتے ہوئے گرین لینڈ میں اپنے قونصل خانے باضابطہ طور پر کھول دیے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس اور کینیڈا نے گرین لینڈ کے دارالحکومت نونوک میں اپنے قونصل خانے کا افتتاح کیا، جسے ڈنمارک کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور تعاون کے عزم کے طور پر پیش کیا گیا۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا جب صدر ٹرمپ نے دوسری بار گرین لینڈ پر ملکیت کا دعویٰ کیا تھا۔

فرانسیسی سفیر کرسٹوپ پیرسوٹ اور نئے فرانسیسی قونصل جنرل ژاں نویل پوئریئر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فرانس کا قونصل خانہ گرین لینڈ اور ڈنمارک کے ساتھ دوستی اور یکجہتی کی علامت ہے، اور اس کا مقصد امریکا کو کوئی پیغام دینا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط تعلقات اسی وقت قائم ہوتے ہیں جب دوست مشکل حالات میں ساتھ کھڑے ہوں، اور فرانس اس عزم کے ساتھ حاضر ہے۔

اسی دن کینیڈا کے وزیر خارجہ انیتا آنند اور کینیڈین گورنر جنرل مریم سائمن نے بھی گرین لینڈ میں کینیڈا کے قونصل خانے کا افتتاح کیا اور سرکاری پرچم لہرایا۔ گلوبل افیئرز کینیڈا کے مطابق، کینیڈا اور گرین لینڈ کے درمیان دنیا کی سب سے طویل سمندری سرحد کے ساتھ کئی صدیوں پر محیط تاریخی تعلقات موجود ہیں۔

یہ یاد رہے کہ کینیڈا نے دسمبر 2024 میں اور فرانس نے جون 2025 میں گرین لینڈ میں قونصل خانوں کے قیام کا اعلان کیا تھا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos