انڈونیشیا ممکنہ طور پر غزہ میں بین الاقوامی امن فورس میں فوجی بھیجے گا

[post-views]
[post-views]

انڈونیشیا نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ پٹی میں قائم بین الاقوامی امن فورس میں حصہ لینے کے لیے ممکنہ طور پر 5,000 سے 8,000 فوجی بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اگر یہ تعیناتی حتمی طور پر ہو جاتی ہے تو یہ 1967 کے بعد غزہ میں تعینات ہونے والی پہلی غیر ملکی فوج ہوگی۔

خبر رساں اداروں کے مطابق انڈونیشیا کے فوجی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ امن منصوبے کے تحت تشکیل دی جانے والی بین الاقوامی امن فورس کا حصہ بنیں گے۔ انڈونیشیا کے آرمی چیف، جنرل مارولی نے بتایا کہ فوجیوں کی حتمی تعداد اور تعیناتی کی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی ہے۔ تاہم، فوج کے کچھ یونٹس کو خاص طور پر انجینئرنگ، طبی امداد اور انسانی ہمدردی کی خدمات کے لیے تربیت دی جا رہی ہے تاکہ وہ امن عمل اور شہری امداد میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

انڈونیشیا کی ممکنہ تعیناتی کے بعد صدر ٹرمپ کے بورڈ آف پیس منصوبے کا باقاعدہ آغاز ہو گا، جس کا مقصد غزہ میں جنگ بندی کے بعد استحکام قائم کرنا اور امن کی صورت حال بہتر بنانا ہے۔ اس منصوبے کے تحت غزہ میں ایک عبوری حکومت بھی قائم کی جائے گی، جس کی سربراہی فلسطینی ماہر کریں گے جبکہ امریکی قیادت اس عمل کی نگرانی کرے گی۔

انڈونیشیا، دنیا کا سب سے زیادہ مسلم آبادی والا ملک، اپنی فوج کی تعیناتی کے ذریعے عالمی سطح پر ایک غیر معمولی قدم اٹھا رہا ہے۔ تاہم، کچھ ممالک ٹرمپ کے بورڈ آف پیس پر تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اقدام اقوام متحدہ کے کردار کو کمزور کرے گا اور خطے میں امریکی اثر و رسوخ کو بڑھائے گا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos