بھارت میں مسلمانوں اور مسیحیوں پر ہجوم کے حملے، عالمی ادارے کی تشویش

[post-views]
[post-views]

امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے بھارتی اقلیتوں پر ہندو انتہا پسندوں کے مظالم کی شدید مذمت کی ہے۔

آر ایس ایس کے ہندوتوا نظریے پر مبنی مودی حکومت میں اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں اور مسیحیوں، پر تشدد کی تمام حدیں پار کر دی گئی ہیں۔ بی جے پی کی حکمران جماعت ہندوتوا کو سیاسی ایجنڈے کے طور پر استعمال کر کے اپنے اقتدار کو مضبوط بنانے کی کوشش میں مصروف ہے۔

بھارت میں اقلیتوں کے خلاف ہجوم کے حملے اور عبادت گاہوں پر تشدد اب معمول بن چکا ہے۔ امریکی کمیشن کے مطابق موجودہ سال کے آغاز سے ہی بھارتی مسیحیوں پر حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جس میں اوڑیسہ میں پادری کے ساتھ بدترین تشدد شامل ہے۔

کمیشن نے بتایا کہ مذہب کی جبری تبدیلی کے الزام پر اقلیتوں کو غیر قانونی حراست میں رکھا جاتا ہے اور سفاکانہ حملے کیے جاتے ہیں۔ اتر پردیش میں گھروں میں عبادت کرنے والے 12 مسلمانوں کو حراست میں لینا اس کی واضح مثال ہے۔

بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کی نفرت پر مبنی پالیسیوں نے بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے بنیادی حقوق اور ان کے محفوظ مستقبل کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ آر ایس ایس کے نظریاتی ایجنڈے کے تحت حکومت اقلیتوں کو قومی اور سماجی دھارے سے الگ کرنے کی منظم کوششیں کر رہی ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos