ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا ہے کہ اگر اہم بحری گزرگاہ باب المن دب میں آمد و رفت متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ گزرگاہ عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم حیثیت رکھتی ہے، جہاں سے بڑی مقدار میں تیل، گندم، چاول، کھاد اور مائع قدرتی گیس مختلف ممالک تک پہنچائی جاتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ باب المن دب ایک اسٹریٹجک راستہ ہے جس کے ذریعے بین الاقوامی کمپنیاں اور ممالک اپنی بڑی تجارتی ترسیلات انجام دیتے ہیں۔
قالیباف نے واضح کیا کہ اگر اس اہم بحری راستے میں کسی بھی نوعیت کی رکاوٹ پیدا ہوئی تو اس کے اثرات عالمی سپلائی چین پر پڑیں گے اور تجارتی نظام شدید متاثر ہو سکتا ہے۔






