طارق محمود اعوان
بڑھتی ہوئی عالمی غیر یقینی صورتحال کے دوران پاکستان ایک بار پھر خود کو علاقائی اور عالمی کشیدگی کے ایک حساس اور پیچیدہ مرکز میں پاتا ہے۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری تناؤ نے اسلام آباد کے سفارتی کردار کو دوبارہ نمایاں کر دیا ہے۔ پاکستان براہِ راست اس تنازع کا فریق نہیں، لیکن اپنی جغرافیائی اہمیت اور سفارتی وزن کی وجہ سے اس کے فیصلے پورے خطے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
گزشتہ کچھ عرصے میں پاکستان نے ایک نہایت محتاط اور متوازن خارجہ پالیسی اپنائی ہے۔ حکومتی اور عسکری سطح پر مسلسل اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ کشیدگی میں کمی، مذاکرات اور سفارتی حل کو ترجیح دی جائے۔ پاکستان نے کسی بھی متحارب بلاک کے ساتھ کھلی وابستگی سے گریز کرتے ہوئے ایک متوازن راستہ اختیار کیا ہے۔ یہ حکمتِ عملی ایران کے ساتھ تاریخی تعلقات، خلیجی ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی وابستگیوں اور مغربی دنیا کے ساتھ وسیع سفارتی روابط کو برقرار رکھنے کی کوشش کا حصہ ہے۔
اس پالیسی کو حالیہ اعلیٰ سطحی دوروں سے مزید تقویت ملی ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے حال ہی میں ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان، اسپیکر ایرانی پارلیمان اور وزیرِ خارجہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں خطے کی سلامتی، پائیدار امن اور سفارتی تعاون کو مضبوط بنانے پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ اسی طرح پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں بھی ایک سہولت کار کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے، تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔
دوسری جانب وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بھی سعودی عرب، قطر اور ترکی کے حالیہ دورے کیے، جہاں انہوں نے خطے کی قیادت سے ملاقاتیں کر کے علاقائی امن، اقتصادی تعاون اور سیاسی استحکام پر بات چیت کی۔ ان دوروں کا مقصد پاکستان کے سفارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانا اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو آگے بڑھانا تھا۔
یہ تمام سفارتی سرگرمیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ پاکستان ایک ایسے خطے میں اپنی پالیسی کو توازن کے ساتھ آگے بڑھا رہا ہے جہاں مختلف طاقتیں ایک دوسرے کے ساتھ مقابلے اور تعاون دونوں میں مصروف ہیں۔ تاہم یہ توازن برقرار رکھنا آسان نہیں، کیونکہ پاکستان کی معیشت بیرونی مالی معاونت، ترسیلاتِ زر اور بین الاقوامی تعلقات پر کافی حد تک انحصار کرتی ہے۔
معاشی کمزوریاں بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی کو متاثر کرتی ہیں، جس کے باعث اسے اپنی سفارتی حکمتِ عملی میں مسلسل احتیاط اور لچک اختیار کرنا پڑتی ہے۔ خلیجی ممالک کے ساتھ اقتصادی تعلقات، ایران کے ساتھ جغرافیائی قربت اور مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات—یہ تمام عوامل ایک پیچیدہ سفارتی توازن پیدا کرتے ہیں۔
ان چیلنجز کے باوجود پاکستان کا مسلسل مؤقف یہی رہا ہے کہ خطے کے مسائل کا حل صرف مذاکرات اور پرامن سفارت کاری کے ذریعے ممکن ہے۔ موجودہ حالات میں پاکستان کا کردار ایک ممکنہ ثالث کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے، لیکن مؤثر ثالثی کے لیے اعتماد، اثر و رسوخ اور طویل مدتی سفارتی استحکام ضروری ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان کی خارجہ پالیسی ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں روایتی طاقت کے بجائے سفارتی مہارت، توازن اور پیچیدہ حالات کو سنبھالنے کی صلاحیت زیادہ اہم ہو گئی ہے۔ آنے والے وقت میں پاکستان کے فیصلے نہ صرف اس کی خارجہ پالیسی بلکہ پورے خطے میں اس کے کردار کا تعین کریں گے۔









