نیتن یاہو کا ایران معاہدے سے فاصلہ، اسرائیل نے خودمختاری کا اعلان کر دیا

[post-views]
[post-views]

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ ایران سے متعلق کسی بھی ممکنہ معاہدے میں اسرائیل فریق نہیں بنے گا اور وہ اپنی قومی سلامتی سے متعلق فیصلے آزادانہ طور پر کرے گا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا ایران کے ساتھ کسی ممکنہ مفاہمت کے تناظر میں اسرائیل پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں محدود یا روک دے، تاکہ خطے میں کشیدگی کم کی جا سکے اور سفارتی عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔

امریکی مؤقف کے مطابق لبنان میں تناؤ میں کمی ایران کے ساتھ جاری مذاکرات اور وسیع تر علاقائی سفارتی کوششوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کر سکتی ہے۔ تاہم رپورٹس کے مطابق اس معاملے پر امریکا اور اسرائیل کے درمیان اختلافات موجود ہیں۔

اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ حزب اللہ سمیت کسی بھی ممکنہ خطرے کے خلاف کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے اور قومی سلامتی کے تقاضوں کو کسی بھی سفارتی دباؤ پر ترجیح دے گی۔

دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو آئندہ 24 گھنٹوں میں حتمی شکل دیے جانے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نے ایک بار پھر مؤقف اختیار کیا ہے کہ اسرائیل اپنی سیکیورٹی پالیسیوں میں مکمل خودمختار ہے اور کسی بھی بین الاقوامی معاہدے کا لازمی فریق بننے کا پابند نہیں۔

تاحال اس معاملے پر باضابطہ تفصیلات محدود ہیں، جبکہ خطے کی صورتحال اور ایران سے متعلق سفارتی پیش رفت پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]