وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے منگل کو تہران میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور صدر مسعود پزشکیان سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر دوبارہ پیش رفت اور ایران و امریکا کے درمیان پاکستان کے مصالحتی کردار کو بحال کرنے کی کوشش کرنا تھا۔
محسن نقوی منگل کی صبح تہران پہنچے، جہاں ان کے ایرانی ہم منصب اسکندر مومنی نے ان کا استقبال کیا۔ بعد ازاں انہوں نے عباس عراقچی سے ملاقات کی۔ دونوں وزرائے داخلہ کے درمیان دوطرفہ امور پر بھی تفصیلی گفتگو متوقع تھی۔
ایک سفارتی ذریعے کے مطابق محسن نقوی کے دورۂ تہران کا بنیادی مقصد اسلام آباد مفاہمتی یادداشت اور پاکستان کی مصالحتی کوششوں کو آگے بڑھانا تھا، جو آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق مذاکرات میں عمان کے مرکزی کردار سنبھالنے کے بعد بڑی حد تک غیر فعال ہو گئی تھیں۔
تاہم عمان اور ایران کے درمیان مذاکرات میں سامنے آنے والی پیش رفت نے اسلام آباد کے لیے دوبارہ ایک موقع پیدا کر دیا ہے کہ وہ جون میں طے پانے والے ابتدائی سمجھوتے سے جنم لینے والے وسیع تر سفارتی عمل کو دوبارہ متحرک کرے۔
دوسری جانب وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کسی نہ کسی انتظام یا سمجھوتے کے قریب پہنچ رہے ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ تین دن کے دوران ملنے والے اشارے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دونوں فریق کسی امن معاہدے یا مفاہمتی انتظام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
پاکستان کی موجودہ سفارتی سرگرمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسلام آباد پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے لیے اہم کردار ادا کر چکا ہے۔ اپریل میں دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے جمع ہوئے تھے، اگرچہ اس وقت کوئی حتمی پیش رفت نہیں ہو سکی تھی۔
اب اگر ایران اور امریکا کے درمیان دوبارہ کسی مفاہمتی مرحلے کی بنیاد بنتی ہے تو پاکستان کے لیے اپنے سفارتی کردار کو مؤثر انداز میں بحال کرنے کا موقع موجود ہے۔ تاہم اس کردار کی کامیابی کا انحصار صرف اسلام آباد کی خواہش پر نہیں بلکہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان اعتماد کی بحالی اور دونوں فریقوں کی مذاکرات کے لیے حقیقی آمادگی پر ہوگا









