پاکستان کا انتباہ: دو ریاستی حل خطرناک موڑ کے قریب

[post-views]
[post-views]

پاکستان نے منگل کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو خبردار کیا کہ مقبوضہ مغربی کنارے کی صورتِ حال ایک ’’خطرناک موڑ‘‘ کے قریب پہنچ چکی ہے۔ پاکستان کے مطابق اسرائیلی بستیوں میں توسیع، آبادکاروں کا تشدد اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی نے دو ریاستی حل کے امکانات کو شدید خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعات الگ الگ نوعیت کے نہیں بلکہ ایسی مربوط کارروائیوں کا حصہ ہیں جن کا مقصد اسرائیلی قبضے کو مستحکم کرنا، آبادی اور سرزمین کی موجودہ صورتِ حال کو تبدیل کرنا اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کو کمزور کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس سمت کو تبدیل نہ کیا گیا تو دو ریاستی حل اور پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں۔

مغربی کنارہ، جسے فلسطینی مستقبل کی آزاد ریاست کا بنیادی حصہ سمجھتے ہیں، غزہ اور مشرقی یروشلم کے ساتھ، حالیہ عرصے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع، آبادکاروں کے تشدد اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر بے دخلی کا سامنا کر رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق جنوری ۲۰۲۵ میں شمالی مغربی کنارے میں شروع ہونے والی کارروائیوں کے نتیجے میں ۱۹۶۷ کی جنگ کے بعد اس علاقے میں بے دخلی کا سب سے بڑا اور طویل بحران پیدا ہوا۔ جنین، طولکرم اور نور شمس کے پناہ گزین کیمپوں سے تقریباً ۴۰ ہزار فلسطینی بے گھر ہوئے، جبکہ گزشتہ سال کے اختتام تک بھی دسیوں ہزار افراد بے گھر تھے۔

عاصم افتخار نے خاص طور پر مشرقی یروشلم میں واقع ای ون راہداری میں اسرائیلی بستیوں کے منصوبوں پر تشویش ظاہر کی۔ ان کے مطابق اس علاقے میں تعمیرات مغربی کنارے کو مزید تقسیم کر سکتی ہیں اور مشرقی یروشلم کو فلسطینی آبادی کے مراکز سے مزید جدا کر سکتی ہیں۔ گزشتہ سال اسرائیل نے اس علاقے میں ۳۴۰۰ سے زائد رہائشی یونٹوں کے منصوبوں کی منظوری دی تھی۔

انہوں نے دریائے اردن کی وادی میں ’’کرمسن تھریڈ‘‘ نامی رکاوٹ کے منصوبے کا بھی ذکر کیا، جس میں اراضی پر قبضہ، خندقوں کی تعمیر اور فلسطینیوں کی زرعی زمینوں اور آبادیوں تک رسائی پر پابندیاں شامل ہیں۔ پاکستان کے مطابق یہ اقدامات فلسطینی سرزمین کو مزید ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی وسیع تر کوشش کا حصہ ہیں۔

اسرائیل نے ۱۹۶۷ کی جنگ میں مغربی کنارہ، مشرقی یروشلم اور غزہ پر قبضہ کیا تھا۔ بیشتر ممالک مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی بستیوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی سمجھتے ہیں، جبکہ اسرائیل اس مؤقف کو مسترد کرتا ہے۔

عاصم افتخار نے کہا کہ زمین کی رجسٹریشن، انتظامیہ اور قانون کے نفاذ پر اسرائیلی اختیار میں توسیع ’’عملاً الحاق‘‘ کے عمل کو مزید گہرا کر رہی ہے۔ انہوں نے اسرائیلی بستیوں کی توسیع فوری طور پر روکنے، علاقے کی حیثیت اور آبادیاتی ساخت تبدیل کرنے والے اقدامات واپس لینے، آبادکاروں کے تشدد کا خاتمہ کرنے اور ذمہ دار افراد کو جواب دہ بنانے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے فلسطینیوں کی روکی گئی آمدنی جاری کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ اس پابندی سے فلسطینی ادارے شدید کمزور ہو رہے ہیں۔

پاکستان نے یروشلم کے قدیم شہر میں مسجد اقصیٰ کے احاطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر بھی تشویش ظاہر کی۔ مسلمانوں کے لیے الحرم الشریف اور یہودیوں کے لیے معبد پہاڑ کے نام سے معروف یہ مقام اسلام کا تیسرا مقدس ترین مقام اور یہودیت کا مقدس ترین مقام سمجھا جاتا ہے اور طویل عرصے سے اسرائیل فلسطین تنازعے کا ایک انتہائی حساس مرکز رہا ہے۔

عاصم افتخار نے غزہ کی انسانی صورتِ حال کو بھی ’’انتہائی نازک‘‘ قرار دیا اور خبردار کیا کہ اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں مزید شدت سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

انہوں نے سلامتی کونسل اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مزید تاخیر کے بغیر کارروائی کرے، فلسطینیوں کو بین الاقوامی تحفظ فراہم کرے اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ محفوظ رکھے۔

ان کے مطابق پائیدار امن کا راستہ اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور فلسطینی عوام کو حقِ خود ارادیت دینے سے گزرتا ہے، جس کے نتیجے میں ۱۹۶۷ سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک خودمختار، قابلِ عمل، متصل اور آزاد فلسطینی ریاست قائم ہو، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]