متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ علاقائی کشیدگی کے باعث ایران کے ساتھ تمام تجارتی سرگرمیاں، تجارتی تبادلے اور مالی لین دین اگلے حکم تک معطل کر دیے گئے ہیں۔ وزارت کے مطابق یہ کشیدگی علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ میں تزویراتی ابلاغ کے شعبے کی ترجمان اور ڈائریکٹر عفرا الحمَیلی نے ایک بیان میں ایران کے ساتھ ملک کے اقتصادی تعلقات کی صورتِ حال سے متعلق الزامات کو مسترد کرتے ہوئے تصدیق کی کہ تہران کے ساتھ تمام تجارتی سرگرمیاں، تجارتی تبادلے اور مالی لین دین اگلے حکم تک روک دیے گئے ہیں۔
انہوں نے خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لیے مذاکرات، تعاون اور علاقائی یکجہتی کو بنیادی ذرائع قرار دیتے ہوئے متحدہ عرب امارات کے عزم کا اعادہ کیا۔
عفرا الحمَیلی نے کہا، ’’علاقائی کشیدگی کے باعث جو علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کو نقصان پہنچا رہی ہے، ایران کے ساتھ تمام تجارتی سرگرمیاں، تجارتی تبادلے اور مالی لین دین اگلے حکم تک معطل کر دیے گئے ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ متحدہ عرب امارات بین الاقوامی قانون اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ اعلیٰ ترین معیارات کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی نظام کی سالمیت کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے۔
یہ اعلان متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ حکام نے سمندری آمدورفت کو نشانہ بنانے والے ایران کے دو بیلسٹک میزائلوں کا سراغ لگایا ہے۔
متحدہ عرب امارات نے حال ہی میں ایران پر یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ اس نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اپنی سرکاری ملکیت کی ادنوک کمپنی کے بحری جہازوں کو نشانہ بنایا۔ ایران نے ان بحری جہازوں پر حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم ایرانی پاسدارانِ انقلاب اس سے قبل خبردار کر چکے ہیں کہ اگر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہاز تہران کے مخالفین سے منسلک ہوئے یا ایرانی ہدایات کی پابندی نہ کی گئی تو ان کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ تہران نے جواباً ان علاقائی ممالک کو نشانہ بنایا جہاں امریکی تنصیبات موجود ہیں، جن میں متحدہ عرب امارات بھی شامل ہے۔
جون کے وسط میں ایران اور امریکا نے پاکستان کی ثالثی میں ایک یادداشتِ مفاہمت پر دستخط کیے تھے، جس کا مقصد تنازع ختم کرنا اور ایک دیرپا امن معاہدے تک پہنچنا تھا۔ تاہم بعد میں ان مذاکرات میں تعطل پیدا ہوگیا، جس کی وجہ یادداشت کی شرائط اور آبنائے ہرمز سے گزرنے کے حقوق سے متعلق جاری اختلافات بتائے گئے ہیں۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی برآمدات کے لیے ایک انتہائی اہم بحری راستہ ہے









