بلاگ تلاش کریں۔

مشورہ

ٹرمپ کی ایران کے تجارتی شراکت داروں کو دھمکی، فوجی حملوں کے بعد معاشی دباؤ میں اضافہ

[post-views]
[post-views]

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی معیشت کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کے لیے ایک نئی مہم کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ جو بھی ملک ایران کے ساتھ تجارت کرے گا یا کسی بھی طرح تہران کی مدد کرے گا، اسے ’’بہت بڑے معاشی نتائج‘‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اگر اس پالیسی پر حقیقتاً عمل درآمد کیا گیا تو واشنگٹن اور چین کے درمیان کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا، ’’آج میں کسی بھی ملک کے خلاف اب تک کی سب سے تباہ کن معاشی کارروائی کا اعلان کر رہا ہوں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ جو بھی ملک اپنے مالیاتی اداروں، کاروباری اداروں، ہوائی اڈوں یا سرکاری اداروں کو ایران کو کسی بھی قسم کی مدد فراہم کرنے کی اجازت دے گا، اسے خود بھی ’’بہت بڑے معاشی نتائج‘‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اعلان میں اس حوالے سے کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں کہ ممکنہ اقدامات کیا ہوں گے یا کن ممالک کو نشانہ بنایا جائے گا۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنگ کو تقریباً چھ ماہ مکمل ہونے والے ہیں اور امریکا میں وسط مدتی انتخابات قریب آنے کے باعث ٹرمپ پر جنگ کے معاشی اثرات کے حوالے سے دباؤ بڑھ رہا ہے۔

گزشتہ ماہ ٹرمپ نے ایران پر دو ہفتوں تک جاری رہنے والی رات کے وقت بمباری کے بعد فوجی حملے روک دیے تھے۔ ان حملوں کے باوجود تہران کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے میں کامیابی نہیں مل سکی۔ رپورٹس کے مطابق اس فوجی مہم کے دوران امریکا کے اہم جنگی ہتھیاروں کے ذخائر میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔

پینٹاگون کے مشیروں نے مبینہ طور پر گزشتہ ماہ ٹرمپ کو بتایا تھا کہ امریکا ایران کے اندر قابلِ عمل اہداف کی فہرست تقریباً مکمل کر چکا ہے اور فوجی کارروائی اپنی عملی حدود تک پہنچ گئی ہے۔

حالیہ ہفتوں میں وائٹ ہاؤس نے حکمتِ عملی میں وسیع تر تبدیلی کے اشارے دیے ہیں، جس کے تحت براہِ راست فوجی کارروائی سے توجہ ہٹا کر تہران پر معاشی دباؤ بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ امریکا ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کی کوششوں میں تیزی لائے گا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]