واشنگٹن اور تہران کی ثالثوں کے ذریعے الگ الگ بات چیت، مذاکرات میں ایرانی تجویز میں ترامیم، جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر توجہ
نیویارک/واشنگٹن: امریکا اور ایران نے سات ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کی ایک نئی کوشش کے تحت ثالثوں کے ذریعے بالواسطہ سفارتی رابطے دوبارہ شروع کر دیے ہیں، جبکہ متوقع مذاکرات کا محور تہران کی تازہ جنگ بندی تجویز کا ترمیم شدہ خاکہ ہوگا۔
دونوں ممالک کے حکام نے پیر کو ثالثوں کے ساتھ الگ الگ بات چیت کی، جس سے اس تنازع کے سفارتی حل کی ایک اور کوشش کا آغاز ہوا ہے جس میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، توانائی کی اہم عالمی گزرگاہیں متاثر ہوئی ہیں اور بین الاقوامی منڈیوں میں بے یقینی پیدا ہوئی ہے۔
مذاکرات سے آگاہ ایک عہدیدار کے مطابق، آئندہ بات چیت میں ایران کی جانب سے گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر پیش کی گئی سات روزہ جنگ بندی کی تجویز کے ترمیم شدہ مسودے پر توجہ مرکوز کیے جانے کا امکان ہے۔
یہ نئی سفارتی سرگرمیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب اپریل اور جون میں ثالثی کے ذریعے طے پانے والے دو سابقہ جنگ بندی معاہدے تنازع کا مستقل خاتمہ کرنے میں ناکام رہے تھے۔
عراقچی نیویارک میں موجود، ایران کو امریکی جواب کا انتظار
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے بعد بھی نیویارک میں موجود ہیں، جہاں سفارتی رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق، تہران اپنی تازہ جنگ بندی تجاویز اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی سے متعلق شرائط پر واشنگٹن کے جواب کا منتظر ہے۔
عراقچی کا کہنا ہے کہ ایران پرامن حل کے لیے اپنا مجوزہ راستہ پہلے ہی پیش کر چکا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’اگر امریکی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ کسی معاہدے یا پرامن حل کے خواہاں ہیں تو ہم وہ حل پیش کر چکے ہیں۔‘‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کو بتایا کہ امریکی حکام نے پیر کو ثالثوں کے ساتھ الگ الگ بات چیت کی، تاہم انہوں نے ان رابطوں کی تفصیلات نہیں بتائیں۔
ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ رواں ہفتے مزید سفارتی بات چیت ہو سکتی ہے۔
ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کو امریکی ناکہ بندی کے خاتمے سے مشروط کر دیا
مذاکرات کا مرکزی نکتہ تہران کی سات روزہ تجویز ہے، جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کو وسیع تر سیاسی، اقتصادی اور عسکری اقدامات سے منسلک کیا گیا ہے۔
تجویز کے مطابق، ایران اور لبنان سے متعلق جنگی کارروائیاں ختم کی جائیں گی جبکہ امریکا ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی اٹھا لے گا۔
تہران اربوں ڈالر کے منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی اور ایرانی تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں کے خاتمے کا بھی مطالبہ کر رہا ہے۔
اس کے بدلے ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی اجازت دے گا، جو دنیا میں توانائی کی ترسیل کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔
عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل میں اس آبی گزرگاہ کی اہمیت کے باعث آبنائے ہرمز موجودہ تنازع کا ایک مرکزی پہلو بن چکی ہے۔ بحری آمدورفت میں رکاوٹ نے جنگ کے معاشی اثرات کو خطے سے کہیں آگے تک پھیلا دیا ہے۔
جوہری مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کا امکان
ایرانی تجویز میں تہران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کی بحالی بھی شامل ہے۔
اہم ترین اختلافی امور میں ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر کا مستقبل شامل ہوگا۔ ٹرمپ ان ذخائر کے خاتمے یا انہیں ایران سے باہر منتقل کرنے پر زور دیتے رہے ہیں، جس کے باعث جوہری معاملہ کسی بھی وسیع تر معاہدے میں فیصلہ کن اہمیت اختیار کر سکتا ہے۔
اس طرح ممکنہ مذاکرات محض عارضی جنگ بندی تک محدود نہیں ہوں گے۔ کسی جامع سمجھوتے میں پابندیوں، منجمد ایرانی اثاثوں، بحری آمدورفت، امریکی ناکہ بندی، علاقائی جنگی کارروائیوں اور جوہری تنازع جیسے معاملات کو بھی حل کرنا ہوگا۔
اتنے وسیع اور پیچیدہ معاملات کسی پائیدار معاہدے تک پہنچنے کے عمل کو مزید مشکل بنا سکتے ہیں۔
گزشتہ جنگ بندیاں برقرار نہ رہ سکیں
تازہ سفارتی کوشش سے قبل جنگ روکنے کی دو کوششیں کی جا چکی ہیں۔
واشنگٹن اور تہران نے اپریل اور پھر جون میں ثالثی کے ذریعے جنگ بندی کے معاہدے کیے، تاہم دونوں انتظامات مختصر عرصے میں ناکام ہو گئے۔
یہ سابقہ تجربات نئی بات چیت پر بھی اثرانداز ہوں گے۔ کسی نئے معاہدے کے لیے صرف دونوں فریقوں کی رضامندی کافی نہیں ہوگی بلکہ ایسے عملی انتظامات بھی درکار ہوں گے جو دوبارہ جنگ شروع ہونے سے روک سکیں۔
تنازع کا آغاز فروری کے آخر میں ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں سے ہوا تھا۔ اس کے بعد سات ماہ کی لڑائی میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے جبکہ توانائی کی ترسیل کے لیے اہم بحری راستوں میں رکاوٹ کے باعث عالمی منڈیاں بھی متاثر ہوئیں۔
سفارت کاری بحال، مگر بڑے اختلافات برقرار
ثالثوں کے ساتھ الگ الگ مذاکرات ابھی براہِ راست امریکا ایران بات چیت یا کسی نئے جنگ بندی معاہدے کے مترادف نہیں ہیں۔ تاہم یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ جاری جنگ کے باوجود دونوں فریق سفارتی ذرائع سے رابطے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
اب بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا ایران کی سات روزہ تجویز میں ممکنہ ترامیم دونوں ممالک کے اختلافات کو اس حد تک کم کر سکتی ہیں کہ مذاکرات کا نیا دور شروع ہو سکے۔
تہران آبنائے ہرمز کھولنے کو امریکی ناکہ بندی کے خاتمے، تیل کی برآمدات میں ریلیف، منجمد اثاثوں تک رسائی اور جنگی کارروائیاں روکنے سے جوڑ رہا ہے، جبکہ واشنگٹن کی جانب سے اپنے سکیورٹی اور جوہری مطالبات پر زور دیے جانے کی توقع ہے۔
دو سابقہ جنگ بندی کوششوں کی ناکامی کے بعد تازہ سفارتی عمل کی اصل اہمیت صرف اس بات میں نہیں ہوگی کہ نیا معاہدہ طے پاتا ہے یا نہیں، بلکہ یہ بھی اہم ہوگا کہ آیا دونوں فریق ایسے قابلِ عمل نکات پر متفق ہو سکتے ہیں جو ابتدائی سات روزہ مدت کے بعد بھی جنگ بندی کو برقرار رکھ سکیں۔
فی الحال واشنگٹن اور تہران براہِ راست مذاکرات کی میز پر ایک دوسرے کے سامنے نہیں بیٹھے، لیکن ثالثی کے ذریعے سفارت کاری کی بحالی نے جنگ کے خاتمے کے لیے ایک اور ممکنہ راستہ کھول دیا ہے۔









