مشرقِ وسطیٰ کے بڑھتے ہوئے سیکیورٹی بحران کے باعث پی آئی اے نے ریاض کے لیے پروازیں معطل کر دیں
میزائل اور ڈرون حملوں سے ایوی ایشن آپریشنز شدید متاثر؛ قومی ایئرلائن نے سعودی دارالحکومت کے لیے آپریشن عارضی طور پر روک دیا جبکہ سینکڑوں پروازیں منسوخ اور تاخیر کا شکار
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) نے مشرقِ وسطیٰ میں بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال اور سعودی عرب بھر میں ایوی ایشن آپریشنز کو متاثر کرنے والے میزائل و ڈرون حملوں کے پیشِ نظر جمعے کے روز ریاض کے لیے اپنی پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی ہیں۔ قومی ایئرلائن کے ترجمان نے پروازوں کی معطلی کی تصدیق کرتے ہوئے ریاض سفر کرنے والے مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایئرپورٹ روانہ ہونے سے قبل پی آئی اے کے کال سینٹر کے ذریعے اپنے فلائٹ شیڈول کی تصدیق کر لیں۔
یہ فیصلہ سعودی عرب اور یمن کی حوثی فورسز کے درمیان شدت اختیار کرتی ہوئی کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے، جس کے تحت مملکت میں ایئرپورٹس اور دیگر اہم تنصیبات کو بار بار میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ریاض ایئرپورٹ پر سینکڑوں پروازیں متاثر
سیکیورٹی کی اس پیش رفت نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر آپریشنز کو شدید متاثر کیا ہے۔ فلائٹ ٹریکنگ پلیٹ فارم ‘فلائٹ ریڈار 24’ (Flightradar24) کے مطابق، جمعے کے روز ریاض سے آمد و رفت کی حامل کم از کم 104 پروازیں منسوخ کی گئیں جبکہ 154 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ اس سے قبل جمعرات کے روز صورتحال مزید سنگین رہی جب 335 پروازیں منسوخ کی گئی تھیں۔ یہ اعداد و شمار شہری ایوی ایشن پر علاقائی کشیدگی کے بڑھتے ہوئے اثرات کی عکاسی کرتے ہیں، جس کے باعث ایئرلائنز سعودی دارالحکومت کے لیے اپنے آپریشنل خطرات کا ازسرنو جائزہ لے رہی ہیں۔
سعودی عرب کے لیے دیگر پروازیں معمول کے مطابق جاری
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے پی آئی اے کی جانب سے ریاض کے لیے پروازوں کی عارضی معطلی کی تصدیق کی ہے، تاہم واضح کیا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان باقی فلائٹ آپریشنز معمول کے مطابق جاری ہیں۔ اتھارٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ان خدشات اور افواہوں کو بھی مسترد کر دیا جن میں مملکت کے لیے تمام پروازوں کی مکمل معطلی کا دعویٰ کیا جا رہا تھا، اور انہیں غیر مستند قرار دیا۔ اس وضاحت کا مقصد دیگر سعودی شہروں کا سفر کرنے والے مسافروں کو اطمینان دلانا تھا کہ یہ پابندیاں صرف پی آئی اے کے ریاض آپریشنز تک محدود ہیں۔
بین الاقوامی ایئرلائنز کی جانب سے بھی ریاض سروسز معطل
خطے میں سیکیورٹی صورتحال کی خرابی کے پیشِ نظر پی آئی اے کے علاوہ کئی دیگر بین الاقوامی ایئرلائنز نے بھی ریاض کے لیے اپنی سروسز عارضی طور پر روک دی ہیں۔ جرمنی کے ‘لفتھانسا گروپ’ (Lufthansa Group) نے اعلان کیا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کی پیش رفت کے باعث 16 اکتوبر تک سعودی دارالحکومت کے لیے پروازیں معطل رکھے گا۔ انڈین ایئرلائن ‘انڈی گو’ (IndiGo) نے بھی 9 اکتوبر تک ریاض سے آنے اور جانے والی تمام پروازیں منسوخ کر دیں۔ اسی طرح ‘ایئر انڈیا’ اور ‘اکاسا ایئر’ (Akasa Air) نے 10 اکتوبر تک ریاض کے لیے اپنے آپریشنز معطل کرنے کی تصدیق کی ہے۔ یہ فیصلے مسافروں کی حفاظت، طیاروں کی سیکیورٹی اور جاری حملوں کے باعث پیدا ہونے والی عدم یقینی کی صورتحال پر بین الاقوامی ایئرلائنز تشویش کی عکاسی کرتے ہیں۔
حوثی حملوں سے سیکیورٹی تحفظات میں شدید اضافہ
ایوی ایشن کے شعبے میں سامنے آنے والا یہ خلل یمن کی حوثی فورسز کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف حملوں میں آنے والی تیزی کا نتیجہ ہے۔ جمعرات کے روز اس گروپ نے اپنی میزائل مہم کو تیز کرتے ہوئے سعودی فضائی حدود اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا، تاکہ مملکت کے ایوی ایشن اور تیل کے آپریشنز میں خلل ڈالا جا سکے۔ ان حملوں سے پروازوں کا سلسلہ متاثر ہوا اور رپورٹس کے مطابق ایک کے جی (Kindergarten) اور ایک طبی مرکز کو بھی نقصان پہنچا۔ جاری عسکری کارروائیوں نے شہری تنصیبات کی سیکیورٹی اور مزید علاقائی کشیدگی کے ممکنہ نتائج سے متعلق تحفظات کو بڑھا دیا ہے۔ فل الوقت، پی آئی اے کی معطلی سیکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر ایک احتیاطی تدبیر ہے، جبکہ مسافروں کو تازہ ترین معلومات کے لیے ایئرلائن سے براہِ راست رابطہ رکھنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔









