بلاگ تلاش کریں۔

مشورہ

پاکستان نے مکہ دفاعی اتحاد کی توثیق کر دی، استنبول میں آٹھ ممالک کے اعلیٰ سطحی مذاکرات

[post-views]
[post-views]

استنبول: پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، مصر، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی سمیت آٹھ ممالک کے وزرائے خارجہ اور اعلیٰ سفارت کاروں نے جمعے کے روز استنبول میں ملاقات کی، جس میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع، یمن اور غزہ کی صورت حال اور بین الاقوامی بحری سلامتی کو درپیش خطرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس سفارتی اجلاس میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی پر مشتمل یورپی گروپ، جسے تین یورپی ممالک کا گروپ کہا جاتا ہے، اور ترکیہ، پاکستان، سعودی عرب اور مصر پر مشتمل نئے علاقائی گروپ کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اٹلی بھی مذاکرات میں شریک ہوا۔ اجلاس کا بنیادی مقصد سفارتی روابط کو مضبوط بنانا اور مشرقِ وسطیٰ میں مزید فوجی کشیدگی کو روکنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر غور کرنا تھا۔

شرکا نے روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ، مسئلہ فلسطین، یمن میں عدم استحکام اور واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے نتائج سمیت متعدد اہم بین الاقوامی معاملات کا جائزہ لیا۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز اور آبنائے باب المندب سے تجارتی جہازوں کی بلا تعطل آمدورفت یقینی بنانے پر توجہ دی گئی۔ یہ دونوں بحری گزرگاہیں عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے غیر معمولی تزویراتی اہمیت رکھتی ہیں۔

یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے جب پاکستان نے سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ سہ فریقی سلامتی معاہدے، مکہ دفاعی اتحاد، کی توثیق کا عمل باضابطہ طور پر مکمل کر لیا۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے جمعے کے روز اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ معاہدے کا مقصد اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنانا، مشترکہ دفاعی صلاحیت میں اضافہ کرنا اور علاقائی استحکام کو فروغ دینا ہے۔

وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ اتحاد دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی مخصوص ملک یا سیاسی فریق کے خلاف قائم نہیں کیا گیا۔

اگست میں طے پانے والا یہ معاہدہ تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون میں ایک اہم پیش رفت کی نمائندگی کرتا ہے۔ ترکیہ نے یہ عندیہ بھی دیا ہے کہ مستقبل میں مصر سمیت دیگر علاقائی ممالک کے لیے بھی اس انتظام میں شمولیت کے امکانات موجود ہیں۔

ایران اور امریکہ کی کشیدگی کے دوران سفارت کاری پر زور

استنبول اجلاس کی میزبانی کرنے والے ترکیہ کے وزیر خارجہ حاکان فیدان نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی خطے میں عدم استحکام کو مزید گہرا کرے گی اور تنازع موجودہ حدود سے باہر پھیلنے کا خطرہ پیدا ہوگا۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ سفارتی روابط اور مذاکرات ہی اس تنازع کے خاتمے کا واحد پائیدار راستہ ہیں۔

حاکان فیدان کے مطابق اجلاس میں شریک کسی بھی ملک نے ایران کے خلاف کسی نئی فوجی مداخلت یا حملے کی حمایت نہیں کی۔

ترک وزیر خارجہ نے ایسے علاقائی تعاون کے نظام تشکیل دینے کی اہمیت بھی اجاگر کی جو بیرونی طاقتوں پر غیر ضروری انحصار کے بغیر سلامتی کے مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

انہوں نے نئے سفارتی پلیٹ فارم کو اس کی غیر رسمی ساخت، لچک اور مختلف جغرافیائی و سیاسی مفادات رکھنے والے ممالک کو ایک جگہ جمع کرنے کی صلاحیت کے باعث خاص طور پر مفید قرار دیا۔

فیدان کا کہنا تھا کہ علاقائی ممالک کو اپنی مشترکہ سلامتی سے متعلق تنازعات کے حل کی زیادہ ذمہ داری خود قبول کرنی چاہیے۔

انہوں نے زور دیا کہ مستقل استحکام محض بیرونی مداخلت کے ذریعے قائم نہیں کیا جا سکتا، بلکہ تنازعات سے براہِ راست متاثر ہونے والے ممالک کو ان کے حل میں مرکزی کردار ادا کرنا ہوگا۔

یورپی وزرائے خارجہ کی مزید کشیدگی کے نتائج پر تشویش

فرانس کے وزیر خارجہ ژاں نویل بارو نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ایک اور فوجی تصادم سنگین معاشی نتائج پیدا کر سکتا ہے، خصوصاً عالمی توانائی کی منڈیوں پر اس کے منفی اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ نئی جنگی کارروائیوں سے کسی فریق کو فائدہ نہیں ہوگا، جبکہ تیل اور گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

بارو کے مطابق اجلاس میں شریک ممالک واشنگٹن اور تہران دونوں سے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کریں گے، کیونکہ خطہ مزید فوجی کشیدگی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے بھی کشیدگی کم کرنے اور بحری سلامتی بحال کرنے کے لیے سفارتی اقدامات کی حمایت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو درپیش مسائل محض فوجی کارروائیوں کے ذریعے حل نہیں کیے جا سکتے۔

تاجانی کے مطابق اس اہم بحری گزرگاہ کو دوبارہ کھولنا اور محفوظ بنانا عالمی معاشی استحکام کے لیے ضروری ہے، تاہم اس مقصد کے حصول کے لیے ایران کے ساتھ مذاکرات اور تعمیری سفارتی روابط ناگزیر ہیں۔

اجلاس میں ہونے والی گفتگو سے اس بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تشویش کی عکاسی ہوئی کہ خلیج میں مزید تصادم توانائی کی ترسیل متاثر کر سکتا ہے، تجارتی جہاز رانی کے اخراجات بڑھا سکتا ہے اور پہلے ہی غیر یقینی معاشی حالات سے دوچار ممالک پر مزید دباؤ ڈال سکتا ہے۔

یمن کی صورت حال اور بحری سلامتی اہم موضوعات

استنبول مذاکرات میں یمن کی سلامتی کی صورت حال بھی نمایاں طور پر زیرِ بحث آئی۔

حاکان فیدان نے یمن کے حوثیوں کے مسلسل حملوں کے تناظر میں سعودی عرب کی سلامتی کے لیے حمایت کا اعادہ کیا اور خلیج اور بحیرہ احمر کی بحری گزرگاہوں کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا۔

آبنائے ہرمز اور باب المندب اس لیے خاص اہمیت رکھتی ہیں کہ یہ توانائی پیدا کرنے والے بڑے خطوں کو بین الاقوامی منڈیوں سے منسلک کرتی ہیں۔

ان راستوں سے جہاز رانی میں طویل تعطل کے اثرات مشرقِ وسطیٰ سے کہیں آگے تک مرتب ہو سکتے ہیں۔

اسی لیے شریک ممالک نے بحری آمدورفت کی آزادی برقرار رکھنے اور علاقائی فوجی کشیدگی کو عالمی تجارت کے لیے خطرہ بننے سے روکنے کے لیے مسلسل تعاون کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا۔

مذاکرات میں یورپی اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے درمیان علاقائی استحکام، اجتماعی سلامتی اور تنازعات کے حل کے معاملات پر قریبی سفارتی مشاورت کے امکانات بھی زیرِ غور آئے۔

مکہ دفاعی اتحاد سے علاقائی دفاعی تعاون کو تقویت

پاکستان کی جانب سے مکہ دفاعی اتحاد کی توثیق نے استنبول کے سفارتی اجلاس کو سلامتی کے حوالے سے مزید اہمیت دی۔

اس معاہدے کے تحت پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان اجتماعی دفاع کا انتظام قائم کیا گیا ہے، جس میں مشترکہ دفاعی صلاحیت اور بیرونی سلامتی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے تعاون کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔

اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ اس معاہدے کا مقصد کسی مخصوص ریاست کے خلاف محاذ آرائی کے بجائے علاقائی امن کو مضبوط بنانا ہے۔

ترکیہ کے لیے بھی یہ اتحاد علاقائی ممالک کے باہمی تعاون پر مبنی سلامتی کے انتظامات کو فروغ دینے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔

چار ملکی سفارتی گروپ میں مصر کی شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ دفاعی معاہدے کے تین اصل شراکت دار ممالک سے آگے بڑھ کر سیاسی مشاورت کا دائرہ وسیع کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

اگرچہ دفاعی اتحاد اور سفارتی گروپ دو الگ انتظامات ہیں، تاہم دونوں علاقائی سلامتی کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مربوط حکمت عملی اختیار کرنے کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔

آٹھ ممالک کا سفارتی مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق

استنبول اجلاس کے بعد فرانسیسی وزیر خارجہ بارو نے اعلان کیا کہ شریک ممالک نے باقاعدہ ملاقاتوں کے ذریعے سفارتی روابط برقرار رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

انہوں نے مذاکرات کو تعمیری قرار دیتے ہوئے کہا کہ متعلقہ حکومتیں مشترکہ دلچسپی کے معاملات پر تعاون جاری رکھنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

برطانیہ، فرانس اور جرمنی پر مشتمل یورپی گروپ دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ قبل ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق سفارتی کوششوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ اس کے برعکس چار ملکی علاقائی گروپ رواں سال وجود میں آیا، جس میں مصر اور مکہ دفاعی معاہدے سے وابستہ تین ممالک شامل ہیں۔

استنبول کا یہ اجتماع بڑھتی ہوئی عالمی اور علاقائی غیر یقینی صورت حال میں یورپی سفارتی سرگرمیوں کو نئے علاقائی تعاون کے نظام سے منسلک کرنے کی ایک کوشش کی نمائندگی کرتا ہے۔

ایران، امریکہ اور یمن سے متعلق کشیدگی کے باعث علاقائی استحکام کو لاحق خطرات کے پیش نظر شریک ممالک نے مذاکرات، تحمل اور مربوط سفارتی اقدامات کی اہمیت پر ایک بار پھر زور دیا۔

اس اجلاس نے علاقائی سلامتی کے انتظامات تشکیل دینے اور یورپی طاقتوں کے ساتھ سفارتی روابط برقرار رکھنے کی کوششوں میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو بھی نمایاں کیا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]