مریضوں کی رپورٹ تیار کرنے کا کام بھی مصنوعی ذہانت کے پروگرام سے لینے کا امکان

[post-views]

[post-views]

انگلینڈ: برطانوی ادارہ صحت نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) کے قلبی امراض کے ماہرین مریضوں کی رپورٹیں لکھنے کے لیے چیٹ جی پی ٹی پروگرام کا استعمال کرنا چاہ رہے ہیں۔

برطانوی میڈیا کے مطابق این ایچ ایس کے ڈاکڑز کا کہنا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے سے ہم زیادہ سے زیادہ مریضوں پر توجہ مرکوز رکھ سکیں گے۔

Don’t forget to Subscribe our channel & Press Bell Icon.

شیفلڈ ٹیچنگ ہاسپٹلز این ایچ ایس فاؤنڈیشن ٹرسٹ کے کارڈیئک ریڈیولوجسٹ ڈاکٹر سمیر الابید کا کہنا تھا کہ اے آئی پروگرام کو ہارٹ اسکین پر نوٹس لینے اور اس کی وضاحت کرنے کی تربیت دی جا سکتی ہے جبکہ چیٹ جی پی ٹی کو پہلے سے ہی کچھ آپریشنز کی انجام دہی کیلئے طلباء اور عملہ استعمال کر رہے ہیں۔

آن لائن رپبلک پالیسی کا میگزین پڑھنے کیلئے کلک کریں۔

ڈاکٹر کا مزید کہنا ہے کہ ریڈیولوجسٹ کو ان اسکین کا تجزیہ کرنے اور پھر رپورٹ لکھنے میں 45 منٹ لگتے ہیں۔ ہمارا اندازہ ہے کہ این ایچ ایس ڈاکٹرز ہر سال ہارٹ اسکین کی رپورٹس تیار کرنے میں 115,000 گھنٹے صرف کرتے ہیں۔ اگر ہم یہ کام کرنے کے لیے چیٹ جی پی ٹی کو استعمال کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں تو ہم ناقابل یقین حد تک وقت بچا سکتے ہیں جو مزید مریضوں کے علاج کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos