مون سون سیزن میں جہاں برسات کی وجہ سے ہرچیز نکھر جاتی ہے وہی آپ کا مزاج بھی بہتر ہوجاتا ہے یہ موسم ویسے تو سب ہی کو بے حد پسند ہوتا ہے تاہم اس کے ساتھ بہت سےمسائل جنم لینے لگتے ہیں انہی میں آپ کی جلد بھی شامل ہیں۔
اس موسم میں کسی کے بال متاثر ہوتے تو کسی کی جلد، یوں تو یہ موسم ہر قسم کی جلد کو متاثر کرتا ہے تاہم آئلی جلد والے افراد اپنے چہرے پر زیادہ آئل کا سامنا کرتے ہیں جس سے مہاسے اور پمپل کا خدشہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے یہاں پر آئلی جلد کے لیے چند گھریلو تراکیب پیش کی جارہی ہے جو آپ کے اس مسئلے کے لیے بہترین ثابت ہوں گی۔
نیم فیس ماسک
نیم جلد کے کئی مسائل کو حل کر کے خوبصورتی بڑھانے کے لیے مشہور ہے۔ آئلی جلد کے لیے یہ علاج انتہائی آسان ہے، اس کے لیے آپ کو صرف ملتانی مٹی، عرق گلاب اور دو کھانے کے چمچ تازہ نیم کے پیسٹ کی ضرورت ہے۔ ان تمام اجزاء کو ملاکر اچھی طرح مکس کریں، اب اسے چہرے پر خشک ہونے تک لگا رہنے دیں، پھر چہرہ دھولیں۔ یہ آئلی جلد علاج کے ساتھ مہاسوں کے لیے بھی بہترین ہے۔
دلیہ کا ماسک
دلیا جلد کو صاف کرکے جلد کی سطح کو ہموار کرتا ہے۔ دلیہ کا پیسٹ تیار کرنے کے لیے ایک پیالے میں عرق گلاب لیں اور اس میں سنگترے کے چھلکے کا پاؤڈر، مسور کی دال کا پاؤڈر اور دلیا ڈالیں۔ تمام اجزاء کو اچھی طرح مکس کر کے پیسٹ بنا لیں۔ اس کے بعد اس پیسٹ کو اپنی جلد پر لگائیں اور اسے کچھ دیر تک خشک ہونے دیں، پھر چہرہ دھولیں۔
پودینے کا رس
پودینے کے پتوں کو پانی کے ساتھ پیس لیں جب تک کہ یہ پیسٹ کی طرح نہ بن جائے۔ پھر اس میں ملتانی مٹی، شہد اور تھوڑا سا دہی ڈال کر تمام اجزاء کو اچھی طرح مکس کر لیں۔ یہ پیک جلد کی نشونما کر کے آئل کو دور رکھنے میں مدد کرے گا۔
کھیرا
کھیرے میں قدرتی ٹھنڈک کی خصوصیات پائی جاتی ہیں جو جلد کو نرم کرنے اور اسے ہموار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ آپ اس سے گھر پر ایک آسان سا ٹونر بنا سکتے ہیں جو آپ کی جلد کو چکنائی سے پاک رکھنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ کھیرے کو رس ٹونر کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ آپ کو بس اس کا رس لے کر چہرے پر لگانا ہے اور کچھ کے بعد ٹھنڈے پانی سے دھونا ہے۔












