علی امین گنڈا پور نے آئی جی اسلام آباد کو ہٹانے کا مطالبہ کر دیا

[post-views]
[post-views]

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے آئی جی اسلام آباد کو ہٹانے کا مطالبہ کر دیا۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے صوبائی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اگر آئی جی اسلام آباد کو نہ ہٹایا گیا تو پھر دھاوا بولیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کے پی ہاؤس اسلام آباد سے پشاور کے لیے سرکاری گاڑی میں روانہ ہوئے۔ اور میرے لیے 4 گھنٹے بعد گاڑی کا بندوبست کیا گیا۔ ایک ضلع کے ڈی پی او کے گھر پہنچا تو وہ وہاں پر موجود نہیں تھا۔ اور پھر ایک شخص نے ڈی پی او سے بات کرائی تو اس نے گھر میں میرے لیے ناشتہ بنوایا۔ ڈی پی او کو کہا کہ میں وزیر اعلیٰ ہوں مجھے سکیورٹی فراہم کی جائے۔ لیکن کسی کو پتہ نہ چلے۔ تو ڈی پی او نے جواب دیا سکیورٹی بھیج دوں گا مگر یہ گارنٹی نہیں دوں گا کہ کسی کو پتہ نہ چلے۔

Pl, subscribe to the YouTube channel of republicpolicy.com

علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ضلع کے ڈی پی او نے کہا میرا نام نہ لیں میری نوکری چلی جائے گی۔ وہ ڈی پی او کس سے ڈر رہا تھا اور کون اس وقت حکومت کر رہا ہے۔ یہ لوگ گھبرا گئے ہیں ان کی ٹانگیں کانپ رہی ہیں۔ اور ہم ظلم کرنے والوں کا ساتھ بالکل نہیں دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ گرفتار کارکن ہمارے بچے ہیں۔ میں اپنا ظلم معاف کرسکتا ہوں لیکن کارکنوں کا نہیں۔ ہم نے کارکنان کی لسٹیں بنوائی ہیں اور ان کی رہائی کے لیے کام شروع کیا ہے۔ کارکنان کے ساتھ جو بھی ظلم ہوا اس کا حساب لیں گے۔

نواز شریف پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نواز شریف 3 بار کا وزیر اعظم ہے لیکن وہ آج بازار میں نہیں گھوم سکتا۔ یہ ہوش کے ناخن لیں۔ کسی کی آہ کچھ بھی کر سکتی ہے۔ اور جو لوگوں کے ساتھ ہو رہا ہے اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos