اعلی ظرفی کی اعلی مثال

[post-views]
[post-views]


تحریر :ڈاکٹر سیف اللہ بھٹی

قلمی دوستی کا زمانہ نہیں تھا ,فلمی دوستی کا زمانہ بھی نہیں تھا. قلبی دوستی کا زمانہ بھی نہیں تھا, عملی دوستی کا زمانہ تھا لیکن عملی دوستی کے زمانے میں بھی اس کی ایک ایسے شخص سے دوستی ہو گئی جس سے ا سالہا سال کبھی ملاقات نہ ہوئی. اعلی کردار, رانا صاحب سے پہلی بار ایک ذاتی غرض کے لیے بات کرنے والا انسان ان کا فین ہو گیا. رانا صاحب ڈائریکٹر تھے. بہت اہم عہدہ تھا. ہزارہا اہم کام سر انجام دینے تھے. رانا صاحب نے نہ صرف پوری توجہ سے نوجوان کی بات سنی بلکہ فوری طور پر مسئلہ بھی حل کر دیا .جس شہر میں رانا صاحب کی تعیناتی تھی ,اس شہر کے اکثر لوگ تلاش رزق میں ادھر ادھر جا چکے تھے. وہ ہمارے دوست کو اپنے کام بتاتے. ہمارے دوست رانا صاحب سے رابطہ کرتے. رانا صاحب ہر کسی کا مسئلہ حل کروا دیتے. یہ سلسلہ ایک دن نہیں, ایک ماہ نہیں کئی سال چلتا رہا .ہمارا دوست منتظر رہا ، کبھی رانا صاحب بھی اکوئی کام کہیں مگر رانا صاحب نے کبھی کچھ نہ کہا. آایک دن ایسا آیا کہ رانا صاحب ہمارے دوست کو علی الصبح ایک کام سے معذرت کر بیٹھے. ہمارے دوست نے ان کی معذرت قبول کی اور کہا :- رانا صاحب اپکے اتنے احسانات ہیں کہ ایک آدھ معذرت ظاہر کرتی ہے کہ رانا صاحب نے اپنی کوشش پوری کی ,کام نہیں ہو سکا تو کوئی مسئلہ نہیں”. دوپہر کو فون آیا ,رانا صاحب نے ہمارے دوست کا کام کسی اور طریقے سے کروا دیا. دوست کو حیرت ہوئی. جس معاشرے میں حقیقی دوست، حقیقی رشتہ دار معمولی سا بھی کام کریں تو تا عمر جتاتے رہیں, ستاتے رہیں, اسی معاشرے میں ایک صاحب نے ہمیشہ مدد کی اور ایک دن اگر مدد نہ کر سکے تو اتنی تشویش ہوئی کہ مدد کر کے رہے. جہاں کچھ لوگ کسی کے کام نہ آنے کے لیے ہزاروں جتن کرتے ہیں, اسی معاشرے میں آج بھی رانا جمشید جیسے افراد موجود ہیں جو کسی کی مدد کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے اور اجر کی توقع اللہ تعالی سے رکھتے ہیں. احسان کر کے نہ جتانا اور احسان کر کے کسی کو یہ احساس تک نہ دلانا کہ احسان کیا جا رہا ہے, ولی ہونے کی نشانی ہے .حقیقی اولیاء کرام کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ انسانیت کے سچے خادم ہوتے ہیں. آج کل ہمارے ہاں قحط الرجال کا چرچا کرنا فیشن کا درجہ پا چکا ہے ۔ماہرین عمرانیات کا خیال ہے ، معاشرے اس وقت تنزلی کا شکار ہوتے ہیں جب اچھے لوگوں کی قدر کرنا ترک کر دی جائے۔ موجودہ دور نفسا نفسی کا دور ہے۔ لوگوں کی اکثریت مطلب پرست ہو چکی ہے ۔اگر یہ گمان رکھا جائے کہ آج کا دور اچھے افراد سے بالکل خالی ہے تو یہ بھی زیادتی ہوگی ۔1992 میں لیبر ڈیپارٹمنٹ جوائن کرنے والے رانا جمشید صاحب جنوبی پنجاب کے تینوں ڈویژنز میں اعلی ترین عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔ بڑے آدمی کی نشانی ہوتی ہے ، اس کی قربت میں موجود لوگ خود کو بڑا محسوس کرتےہیں۔ یہی بڑا پن رانا صاحب کی شخصیت کا طرہ امتیاز ہے۔ سادگی پسند رانا جمشید صاحب نہ صرف اپنے ڈیپارٹمنٹ کی آبرو ہیں بلکہ آج کے دور میں انہوں نے اعلی انسانی اقدار کا بھرم رکھنے کا حق ادا کیا ہوا ہے. بدقسمتی سے ہمارے ہاں سرکاری ملازمت کرنے والے افسران و اہلکاران سے لوگوں کو شکایات رہتی ہیں۔ شکایات کی ایک کثیر تعداد ان کے اخلاق سے متعلقہ ہوتی ہے ۔دفاتر میں لوگوں کی بد اخلاقی کا اکثر گلہ کیا جاتا ہے۔ تمام شکایات درست بھی نہیں ہوتیں ۔تمام شکایات غلط بھی نہیں ہوتیں ۔محکمہ لیبر انتہائی اہم فرائض سر انجام دیتا ہے۔ مل ملازمین کے حقوق کا تحفظ محکمہ لیبر کی بنیادی ذمہ داری ہے ۔اس بابت کوئی دو رائے نہیں کہ رانا جمشید صاحب کی جہاں بھی تعیناتی ہوئی, انہوں نے نہ صرف اپنی ذاتی بلکہ محکمے کی نیک نامی میں بھی اضافہ کیا. بد قسمتی ہے ،طویل عرصے سے ہمارے ہاں فقط برائی کا چرچا کیا جاتا ہے۔ ہم کسی بھی شخص کی بری عادات کا بڑھا چڑھا کر چرچا کرتے ہیں۔ رفتہ رفتہ ہم نے لوگوں کے اندر خیر دیکھنا, خیر کی بابت دوسروں کو بتانا ترک کر دیا ہے۔ کبھی ہمارے ہاں منہ پر شکایت کرنا اور پیٹھ پیچھے تعریف کرنا معیوب سمجھا جاتا تھا ۔اب یہ تبدیلی آئی ہے کہ ہم منہ پر شکایت کرنا معیوب نہیں سمجھتے۔ پیٹھ پیچھے تعریف کرنے کا تو ابھی بھی ہمارے ہاں رواج نہیں۔ جو شخص موجود نہ ہو عموما اس کی خامیوں کا ہی تذکرہ کیا جاتا ہے. ہمارا مذہب تلقین کرتا ہے کہ ہم چغلی اور بہتان سے پرہیز کریں۔ ہمارا مذہب حکم دیتا ہے کہ ہم لوگوں کی بھلائیوں پر نظر رکھیں ۔ نجانے کیوں ہ معاشرہ روز بروز عجیب تبدیلیوں کی زد میں ہے ۔گناہ لازم اور نیکی برباد کا ماحول ہبنتا جا رہا ہے۔ کسی نے لاکھ احسا نات کیے ہوں مگر وہ ایک دفعہ توقع پر پورا نہ اترے تو اس کے تمام احسان کھوہ کھاتے ڈال دیے جاتے ہیں.
کسی زمانے میں ہمارے ہاں کسی کا کیا گیا ایک احسان نسل در نسل یاد رکھا جاتا تھا. کسی کی برائی کا تذکرہ کرنا انتہائی معیوب سمجھا جاتا تھا. ایماندار اور نیک آدمی کی عزت تھی, معاشرے میں ڈیمانڈ تھی تو معاشرے میں ایسے افراد با کثرت موجود بھی تھے. اب وقت آگیا ہے کہ ہم رانا جمشید صاحب اور ان جیسے تمام افراد کی دل سے عزت کریں جو لوگوں کی مدد کے لیے دن رات ایک کیے رکھتےہیں، جو انتہائی سادگی سے تمام عمر گزار دیتے ہیں.کسی دور میں سرکاری اہلکار کی انتہائی عزت کی جاتی تھی. سرکاری افسروں کو معاشرے کا حسن سمجھا جاتا تھا .جدیدیت کے زیر اثر ہمارے معاشرے میں رکھ رکھاؤ کا خیال نہیں رکھا جاتا. ہمارے معاشرے میں بزرگ ہونا ایک انتہائی خوبصورت عمل تھا. ہر کوئی بزرگوں کی عزت کرتا تھا. عمر میں بڑے کو دل سے بڑا سمجھا جاتا تھا۔ ابھی بھی ہمارے ہاں ایسے افراد کی ایک کثیر تعداد موجود ہے جو اعلی انسانی اقدار کا خیال رکھتے ہیں ,جو مشرقی روایات کا جیتا جاگتا نمونہ ہیں. رانا جمشید صاحب اور ان جیسے تمام افراد نہ صرف ہماری دلی دعاؤں کے مستحق ہیں بلکہ ضرورت ہے کہ نئی نسل ایسے افراد کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرے. دشمن طویل عرصے سے ہماری نئی نسل کو یقین دلانا چاہتے ہیں، ہمارے ہاں صاحب کردار افراد کی کمی ہے. صاحب کردار افراد کا قحط ہے. ایسی کوئی بات بجا نہیں. آج کے دور میں بھی ہمارے ہاں ایسے افراد موجود ہیں جو دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں .ضرورت فقط اس امر کی ہے کہ ان افراد سے نئی نسل کو روشناس کروایا جائے. ہمارے نادان دوست دنیا میں یہ ڈھنڈورا پیٹتے رہتے ہیں کہ ہمارے ہاں صاحب کردار افراد کی شدید کمی ہے. ایسے تمام افراد کو چاہیے کہ وہ جہاں کہیں کوئی اچھی مثال دیکھیں اس کا بھی چرچا ضرور کریں.
ہمارے ہاں روایات کا بھرم رکھنے والے ہر دور میں موجود رہے ہیں اور انشاءاللہ آئندہ بھی موجود رہیں گے. ہمیں صدق دل سے کوشش کرنی چاہیے کہ ہمارا شمار بھی انہی لوگوں میں ہو جو روایات کا بھرم رکھتے ہیں اور ہر کسی کی نیک نامی کا باعث بنتے ہیں. رانا جمشید صاحب جیسے تمام صاحب دل افراد کو ہمارا سلام.

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos