آئینی ڈیوٹی کی خلاف ورزی

[post-views]
[post-views]

سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے باوجود، پی ڈی ایم  حکومت خیبر پختوانخوا اور پنجاب اسمبلی کے انتخابات کو زیادہ سے زیادہ دیر تک روکنے یا کم از کم تاخیر کا ارادہ رکھتی ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق، آئینی طور پر پابند ہونے کے باوجود، وزارت خزانہ اور وزارت  داخلہ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے ایک بار پھر وسائل فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ حکومت نے انتخابات کے لیے فنڈز جاری کرنے یا انتخابی عمل کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اہلکار فراہم کرنے کے لیے بجٹ نہیں رکھا ہے۔ اپنی طرف سے، الیکشن کمیشن  نے حکومت کو ان کا فرض یاد دلایا ہے اور ضرورت پڑنے پر مدد طلب کرنے کو کہا ہے۔ تاہم، مزاحمت دوسری سمت سے بھی آ رہی ہے۔ الیکشن کمیشن کے حکام نے گزشتہ روز انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندوں سے ملاقات کی تاکہ انتخابات کے پرامن انعقاد کے لیے سکیورٹی پلان تیار کیا جا سکے۔ یہ جان کر سب سے زیادہ مایوسی ہوئی کہ زیر بحث ایجنسیوں نے حکومت کی طرح ہی لائن اختیار کی ہے۔

مبینہ طور پر الیکشن کمیشن کو سفارش کی گئی تھی کہ ”دہشت گردی کے خطرات کی وجہ سے“ انتخابات میں تاخیر کی جائے۔ یہ ملک کے سیکورٹی اداروں  کی طرف سے اپنی  ذمہ داری سے صاف انکار ہے۔ تمام اسٹیک ہولڈرز کو یہ جان لینا چاہیے کہ انتخابات کے انعقاد کے علاوہ آئین میں کوئی دوسرا راستہ یا گنجائش نہیں ہے۔ اگر 2008 میں انتخابات ہو سکتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ اب ان کا انعقاد نہ ہو سکے۔

دوسری جانب یہ بھی پریشان کن بات ہے کہ خیبرپختوانخوا کے گورنر جن کو پی ڈی ایم حکومت نے مقرر کیا تھا، ابھی تک اُنہوں نے صوبے میں انتخابات کے حوالے سے کوئی تاریخ نہیں دی ہے۔ سپریم کورٹ پہلے ہی حاجی غلام علی کو انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہ کرنے پراور آئین کی خلاف ورزی پر سرزنش کر چکی ہے۔ آئینی ڈیڈ لائن میں صرف ایک ماہ باقی رہ جانے کے باوجود بھی خیبر پختوانخوا کے گورنر کو کوئی احساس نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اعلان آخری دن کیا جائے گا تاکہ انتخابات میں مقرر کردہ وقت سے آگے تاخیر کرنا ناگزیر ہو جائے۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ اگر چاہتے ہیں کہ حکومت اپنی آئینی ذمہ داریوں کو نبھانے کی کوششوں میں سنجیدہ نہیں ہے تو اُنہیں فوراً افیصلہ کرنا ہو گا۔انتخابات میں جتنی تاخیر ہوگی، الیکشن کمیشن کے لیے تنازعات سے پاک اور جس کے نتائج سب کو قبول ہوں،  کا انعقاد کرنا اتنا ہی مشکل ہوگا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos