اعمال اور خیال



اسلام میں کسی کے ساتھ سلوک اس کی نیت کے مطابق کیا جاتا ہے جبکہ اسلامی ممالک میں کسی کے ساتھ سلوک اس کی حیثیت کے مطابق کیا جاتا ہے۔ یورپی ممالک میں کسی کے ساتھ سلوک اس کی قابلیت کے مطابق کیا جاتا ہے تو مشرق وسطی میں کسی کے ساتھ سلوک اس کی خاندانی جاذبیت کے مطابق کیا جاتا ہے ۔
امت مسلمہ ایک عرصے سے نازک صورتحال سے دوچار ہے۔ ایک محقق کا کہنا ہے کہ نازک صورت حال سے دوچار ہونے کی واحد وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں نیک نیت لوگ رہ ہی دو، چار گئے ہیں۔ یہ فیصلہ کرنا تو مشکل ہے کہ صاحب نیت دو ہیں یا چار ہیں مگر جتنے بھی ہیں، اپنے آپ سے بیزار ہیں اور اس دنیا سے جانے کو تیار ہیں کیونکہ وہ بھی اکثریت کی آنکھ میں مثل خار ہیں ۔

ہمارے ہاں صاحب حیثیت لوگوں کی کمی نہیں ہے لیکن صاحب نیت لوگوں کا وجود نہ ہونے کے برابر ہے۔ صاحب حیثیت لوگ گننے میں نہیں آتے اور صاحب نیت لوگوں کو ہم گننا چاہیں بھی تو ڈھونڈ نہیں پاتے۔ میرے ایک دوست کہتے ہیں کہ ہمارے ہاں اب صاحب نیت لوگوں کا کال ہے۔ صاحب حیثیت بندوں کا اپنا وبال ہے۔ عجیب ان کی چال ڈھال ہے۔ کبھی نہ ان کو اجتماعیت کا کوئی خیال ہے۔ ان کے ہوتے ہوئے امت کے دن بدلنا محال ہے ۔

Pl, subscribe to the YouTube channel of republicpolicy.com

ایک طویل مدت سے یہ امت ہر طرح کے بحرانوں کی زد میں ہے مگر میرے خیال میں ہمارا سب سے خطرناک بحران نیت کا بحران ہے ۔ ہمارے ہاں کسی شعبے میں اگر کوئی صاحب نیت آ بھی جائے تو ہم اس کی قابلیت پر بحث شروع کر دیتے ہیں اور اپنی ساری قابلیت اس کی شخصیت کو داغ دار کرنے میں لگا دیتے ہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ آخر کار صاحب نیت کی شخصیت نکھر ہی جاتی ہے اور اس کے خلاف ہر سازش بکھر ہی جاتی ہے۔ نیت کا شخصیت پر جو اثر ہوتا ہے اس کے بارے میں میرے خیال میں سب کو پتہ ہے اور بات کرنے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں۔

اچھی نیت اللہ تعالی کی طرف سے ودیعت ہوتی ہے اور یہ ایک ایسی خوبی ہے جس کے سامنے بعض اوقات دوسروں کی تمام صلاحیتیں ماند پڑ جاتی ہیں۔دنیا کا سب سے آسان کام دوسرے کی نیت پر شک کرنا اور دنیا کا سب سے مشکل کام اپنی نیت کو صاف کرنا اور پاک صاف رکھنا ہے۔

ایک معقول آدمی کو ہمیشہ اپنی نیت اور دوسرے کی شخصیت پہ بات کرنی چاہیے۔ مگر ہمارے ہاں اب یہ رواج بن گیا ہے کہ ہم دوسروں کی نیت اور اپنی شخصیت پر بات شروع کر دیتے ہیں ۔ اگر ہم اپنی نیت سنوار لیں تو شخصیت خود ہی نکھر جائے گی مگر ہم شخصیت سنوارتے رہتے ہیں اور ہمارے کندھوں پہ بیٹھے فرشتے یہی پکارتے رہتے ہیں ”اعمال کا دار و مدار تو نیتوں پر ہے“ ۔ہیرا لال دہلوی نے بہت پہلے کہا تھا
”نیت اگر خراب ہوئی حضور کی،
گھڑ لو گے کہانی کوئی ہمارے قصور کی ”
ایسی بات کوئی ہیرے جیسا ہیرا لال ہی کہہ سکتا ہے۔ فیض صاحب جسے عظیم انسان ہی کہہ سکتے تھے کہ ان کے دل پہ بجز ندامت کے ہر داغ ہے۔ بعض اوقات ہماری نیت دوسروں سے آگے نکلنے کی بجائے ان کو پیچھے دھکیلنے کی ہوتی ہے ۔ دنیا اگر اعمال کے آڈٹ کا نام ہے تو آخرت نیت کے آڈٹ کا نام ہے یہ آڈٹ اللہ پاک کی ذات کرے گی اس لیے ہمیں اس آڈٹ کے لئے زیادہ تیاری کرنی چاہیے۔

Pl, subscribe to the YouTube channel of republicpolicy.com

ایک صاحب حال بزرگ کا کہنا ہے کہ روحانی امراض اور نفسیاتی امراض کا درحقیقت منبع ایک ہی ہے۔ ان کا واحد علاج نیت کی بہتری ہے کیونکہ یہ پیدا ہی نیت کی خرابی سے ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید فرمایا، ہمارے ہاں پہلے جسمانی امراض کا علاج طبیعتوں کو دیکھ کر کیا جاتا تھا اور روحانی امراض کا علاج نیتوں کو دیکھ کر کیا جاتا تھا۔ صوفیائے کرام لوگوں کی نیت کی تظہیر کے لئے ساری زندگی لگا دیتے تھے۔ جسمانی امراض کا علاج طبیعتوں پر جبکہ روحانی امراض کا علاج نیتوں پر منحصر ہے۔ ایک دفعہ وقت کے ولی نے کہا کہ درحقیقت نیت اور شخصیت ایک ہی چیز کے دو نام ہیں اگر کوئی اپنی شخصیت سنوارنا چاہتا ہے تو اسے اپنی نیت سنوارنی چاہیے۔

بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے ہاں شخصیت اور حیثیت کو ایک ہی چیز سمجھ لیا گیا ہے۔ اگر کسی آدمی کی دنیاوی حیثیت بڑی ہو تو ہم سمجھتے ہیں کہ اس کی شخصیت بھی بڑی ہے جبکہ صوفیائے کرام کی نظر میں شخصیت، نیت کا دوسرا نام ہے۔ نیت حسین تو شخصیت بہترین۔

شاعر نے اپنے محبوب سے شکوہ کیا تھا کہ اگر اس کی نظروں میں محبوب کی صورت پھیرتی رہے اور اس کا حسن اس کو ستاتا رہے تووہ بیچارہ کیا کر سکتا ہے۔ یہی المیہ ہمارے عام آدمی کا ہے وہ جانتا ہے کہ صاحب جاہ و حشم کی نیت اس کو ستانے کی ہے اور یہ بات ہر وقت اس کے دل میں پھرتی رہتی ہے مگر وہ اپنی بے بسی سے خوب واقف ہوتا ہے۔

ایک شاعر کو اندیشہ تھا کہ کہیں اس کی نیت شوق بھر نہ جائے اور اس کا محبوب اس کے دل سے اتر نہ جائے۔ شعر کی تشریح کرنے والے یہ کہتے ہیں کہ نیت بھر جانے اور دل سے اتر جانے کا اندیشہ یہ ثابت کرتا ہے کہ شاعر کا محبوب صاحب حیثیت نہیں تھا اور شاعر صاحب نیت نہیں تھا۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسلوں کی شخصیت خوبصورت ہو تو ہمیں نیک نیتی سے ان کی نیت کی تربیت کرنی چاہیے۔

یہ بات ہمیشہ ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر نیت خوبصورت ہوگی تو شخصیت خود بخود ہی خوبصورت ہو جائے گی کیونکہ شخصیت نیت کا ہی پر تو ہے۔ پنجاب کا محاورہ یہی ہے کہ ”ہر آدمی اپنی نیت کا پھل پا کر رہتا ہے“ ۔ اس میں، میں اتنا اضافہ کرتا ہوں کہ ہر آدمی اپنی نیت اور اپنے بچوں کی تربیت کا پھل اسی دنیا میں پا لیتا ہے۔ ایک صاحب ذوق نے بڑے غصے سے کہا تھا کہ وہ مورکھ انسان نہیں جس کو سر کی پہچان نہیں۔ اولیا اللہ کہتے ہیں کہ وہ صاحب گیان نہیں جس کو دوسرے کی نیت کی پہچان نہیں اور جس کا اپنی نیت کی طرف دھیان نہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos