امریکی اخبار کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق امریکا ایران میں کئی ہفتوں تک جاری رہنے والی ممکنہ زمینی فوجی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ رپورٹ میں امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا کہ ان منصوبوں میں جزیرہ خارگ اور آبنائے ہرمز کے قریب ساحلی علاقوں پر چھاپے شامل ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، امریکی اسپیشل آپریشنز فورسز اور فوجی دستے ممکنہ چھاپہ مار کارروائیوں میں حصہ لے سکتے ہیں، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک کسی بھی تعیناتی کی منظوری نہیں دی۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعہ کو کہا کہ امریکا زمینی دستوں کے بغیر بھی اپنے تمام مقاصد حاصل کر سکتا ہے، مگر امریکی اخبار کے مطابق منصوبہ بندی جاری ہے۔ ایک اہلکار نے وضاحت کی کہ یہ آخری لمحات کی منصوبہ بندی نہیں ہے۔
ادھر، ٹرمپ انتظامیہ نے ایران میں جاری کشیدگی کے پانچویں ہفتے میں داخل ہونے کے ساتھ مشرق وسطیٰ میں امریکی میرینز کی تعیناتی کر دی ہے، جبکہ امریکی افواج کی 82ویں ایئر بورن ڈویژن کے ہزاروں اہلکاروں کو بھی خطے میں بھیجنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔






