انارکلی جواب مانگتی ہے

[post-views]
[post-views]

! …………… تحریر ، شفقت اللہ مشتاق

      ایک وقت تھا دیہاتوں سے لوگ لاہور میں انارکلی بازار دیکھنے آتے تھے اور جب ان کو اس لفظ کی اصل کہانی کاپتہ چلتا تھا تو ان کو شہزادہ جہانگیر پر شدید ترس آتا تھا اوربادشاہ اکبر پر شدید غصہ آتا تھا لیکن وہ غصہ پی جاتے تھے اور ترس کھا جاتے تھے۔ ویسے تو محبت کی بے شمار داستانیں ہیں اور ان میں اکثر کا انجام عاشق اور معشوق کی بیک وقت موت کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ یہاں جو بتایا جاتا ہے وہ کچھ یوں ہے کہ جہانگیر اور انارکلی کی محبت کا جونہی چرچا ہوا تو یہ سن کر اکبر بادشاہ آپے سے باہر ہو گیا اور اس خوفناک صورتحال سے بچنے کیلئے جہانگیر اندر جاکر خواب دیکھنے لگ گیا۔ اس اثناء میں اس بے چاری حسینہ کو آسانی سے دیوار میں چن دیا گیا۔ جہانگیر کے ہاں بڑا وزڈم تھا اس نے زہر کھانے کی بجائے صبر کا گھونٹ بھر کر نور جہاں کا ہاتھ تھاما اور اپنے باپ کی غیرت کو عبرت ناک شکست دے دی۔ ویسے دنیا عبرت کا مقام ہے۔ باپ سارے کام کرتا ہے اور اگر بیٹا طریق پدری پر کاربند ہونے کی جسارت کرے تو یہاں غیرت کے نام پر کلیوں کو مسل دیا جاتا ہے اور مرد ناتا دھوتا۔ تاریخ کی کتابوں سے تو انارکلی کو نکالا جا سکتا ہے لیکن یہ استعارہ ہے صنف نازک کا اور نازک اندام کو کبھی بھی دل سے نہیں نکالا جا سکتا ۔ ویسے بھی نکالے ہووں پر بھی بالآخر نکالنے والا ترس کھا جاتا ہے۔ کاش اکبر بھی ترس کھا جاتا تو آج انارکلی بازار مغلوں کی سوچ اور حرکتوں کا پتہ نہ دیتا ہوا نظر آتا۔ مغل حکمرانوں نے یہاں بڑے موج میلے کئے ہیں مثل مشہور ہے کہ ات خدا دا ویر ہوندا اے۔ اس کے مصداق آخر پر سارا نزلہ آخری مغل بادشاہ  بہادر شاہ ظفر پر گرگیا اور اس کا سارا عشق شعروں میں ڈھل گیا۔ وہ ویسے تو عمر دراز مانگ کر لائے تھے لیکن عمر نے مکار حسینہ کی طرح وفا نہ کی اور وہ ارزو اور انتطار میں ادھر ادھر ہو گئی دل اکثر عمر کے آخری حصے میں بے زار ہو جاتا ہے اور اس وقت بائی پاس کی سہولت اس لئے بھی میسر نہیں تھی کہ سارا پیسہ تو ممتاز محل کی یاد میں بننے والا تاج محل کھا گیا تھا۔ آخری بادشاہ  کی حسرتیں قید ہو گئیں اور دل داغدار ہوگیا تھا یوں ظفر بدنصیبی کا رونا روتا روتا دیار یار سے دور بہت ہی دور اس جہان فانی کو چھوڑ گیا۔ انسان نے  بالآخر دنیا کو چھوڑنا ہے یہ اس پر منحصر ہے کہ وہ دیوار میں چنا جائے، محبوب کے قدموں میں دم توڑ دے،جبر سے ٹکرائے اور آتی دنیا تک امر ہوجائے یا پھر گو مگو کی حالت میں بھٹک جانے کی وجہ سے گمنامی کی زندگی گزارتا ہوا منوں مٹی تلے چلا جائے۔

Don’t forget to Subscribe our channel & Press Bell Icon.

لاہور میں جہاں بڑا ہی رونق میلہ ہے وہاں لاہور یہاں  آنے والے لوگوں کو بہت سے پیغام بھی دیتا ہے۔ اس کی سرزمین پربرصغیر پاک و ہند کا پہلا بادشاہ قطب الدین ایبک بھی محو استراحت ہے، نور الدین جہانگیر بھی اسی شہر میں آسودہ خاک ہے اور سید داتا علی ہجویری رح بھی یہاں آرام فرما ہیں۔ جیسے بندے بندے میں فرق ہوتا ہے شاید ویسے قبر قبر میں بھی فرق ہوتا ہے۔ فرق کو مٹانے کے لئے بڑی آوازیں اٹھتی ہیں اور وہ آوازیں بھی کہیں نہ کہیں گم ہو جاتی ہیں۔ متاع گم گشتہ کی سدا غالب کی طرح کئی شعراء نے لگائی ہے لیکن شاید لوگ شعروں کو مزہ لینے کے لئے سنتے ہیں ان پر عمل کم ہی کیا جاتا ہے۔ دنیا عمل کی تو ہے ہی عبرت کی بھی جگہ ہے جگہ کو صاف ستھرا رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ہم ہیں کہ ہم نے یہ کام اداروں کے حوالے کر دیا ہے اور اداروں کے عمال نے یہ کام کمپنیوں کے سپرد کرکے اپنا فرض منصبی ادا کردیا ہے۔ صفائی کی خیر ہے منصب سلامت رہے۔ اب دوبارہ بادشاہ سلامت، جہانگیر اور انار کلی کی تاریخ کی مت مارتے ہیں

راقم الحروف تاریخ کاطالب علم ہے اور برصغیر پاک و ہند کی تاریخ کا خوب مطالعہ کیا ہوا ہے۔ حیران ہوں کہ مذکورہ تاریخ سے مورخین نے انارکلی کا ذکر یوں نکالا ہے جیسے مکھن سے بال نکالا جاتا ہے۔ شاید وہ ہر وقت حکمرانوں کو مکھن لگاتے رہتے تھے۔ ویسے تو اکبر اور جہانگیر بھی لبرل حکمران تھے۔ اکبر تو اپنی بادشاہت کے لئے کچھ بھی کرسکتا تھا اس کا خوب طرز حکمرانی تھا وہ دل اور حکومت دونوں کے لئے حسیناوں کا شکار کرتا تھا۔ ہو سکتا ہے پہلے خود شکار ہوتا ہو اور پھر شکار کرنے پر مجبور ہو جاتا ہو. اب اللہ جانتا ہے کہ انارکلی کے معاملے میں وہ اتنا خونخوار کیسے بن گیا۔ غیرت کے معاملے میں زہر کا بھی استعمال کیا جا سکتا اور غیرت کھا کے خود بھی ڈوب مرا جا سکتا ہے۔ ایک بیچاری عورت کو دیوار میں چنوا دینا حالانکہ چنے بھی چبوائے جا سکتے تھے۔ اللہ اعلم۔ چند یوم قبل میں سرکاری کام کے سلسلے میں آرکائیو ڈیپارٹمنٹ سیکریٹریٹ گیا تو معلوم ہوا کہ انارکلی سول سیکریٹریٹ کے ایک گنبد نما عمارت کے اندر لمبی تان کے سوئی ہوئی ہے اور اس نے اپنے آپ کو مکمل طور پر اس لئے مخفی رکھا ہوا ہے تاکہ وارثان اکبر کی کہیں دوبارہ غیرت نہ جاگ  جائے اور وہ اس کی قبر کی بے حرمتی کر کے اپنے غیرتمند ہونے کا ثبوت نہ دینا شروع کردیں ویسے ہمارے ہاں ثبوت سارے غائب کردیئے جاتے ہیں۔ آرکائیو ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ بڑی ہی متحرک شخصیت ہیں اور انہیں تاریخ اور آرکیالوجی پر بڑا عبور ہے۔ میرے سوال پر انہوں نے فرمایا اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ یہ واقعی انارکلی کی قبر ہے۔ اف اللہ۔ اکبر واقعی زیرک بادشاہ تھا اس نے اپنی زندگی میں ہی سارے ثبوت ضائع کردیئے ہیں۔ اپنی بات کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے فرمانے لگیں غالب امکان ہے یہ قبر نورالدین جہانگیر کی بیوی صاحب جمال کی ہے۔ انارکلی کی کہانی ایسٹ انڈیا کمپنی کے ایک افسر ولیم فش نے مغلوں کو بدنام کرنے کے لئے گھڑی تھی۔ 

ویسے مغل کمپلیکس فری لوگ تھے وہ ایسے کاموں سے نہ شرماتے تھے اور ہی خوف کھاتے تھے بلکہ ایسے کام ڈنکے کی چوٹ پر کرتے تھے دل کو چوٹ لگے تو ایسا ہی ہوتا ہے۔ انگریزوں کے حصے میں بات کا بتنگڑ بنانے کی  بدنامی آئی ہے یا پھر ہم ہیں کہ ہر الزام انگریزوں کے سر۔ دنیائے تخیل کا ایک اپنا ماحول ہوتا ہے۔ میں بھی اچانک ایسے ہی ماحول میں کھو گیا اور میری ملاقات انارکلی سے ہوگئی۔ پوری ناگن لگتی تھی۔ ظالم آنکھیں لعل سرخ چہرہ،لمبی گردن، لمبے لمبے کالے سیاہ گھنگھریالے بال، تھرکتا ہوا بدن۔ سچ پوچھیں تو وارث شاہ کی ہیر لگتی تھی۔ آج کے دور کے بیوٹی پارلر ہوتے تو شاید میں اس کو دیکھ کر بے ہوش ہو جاتا۔ اس نے مجھ سے صرف تین سوال پوچھے۔ اول میں ایک عورت ہوں اور میں نے مرد کا کیا بگاڑا ہے۔ دوئم میں ایک لافانی کردار ہوں مجھ سے مورخ کی کیا دشمنی تھی۔ سوم۔ میری قبر کو  آپ لوگوں نے عوام سے کیوں چھپا کے رکھا ہوا ہے میری قبر کا سنگ مرمر بھی تو  دیدنی ہے۔ بس مجھے جواب چاہیے اور انصاف چاہیے ۔ اچانک میری سوچ نے کروٹ لی اور میں ڈر گیا عورت زاد ہے کہیں کوئی میرا بھی سکنڈل نہ بن جائے اور پھر بریکنگ نیوز اور پھر اس پر سینکڑوں ویوز۔ چلو اچھا ہوا انارکلی ایک دفعہ پھر زندہ ہو گئی ویسے انارکلی آج بھی زندہ ہے اور بے چاری جہانگیر کی تلاش میں ماری ماری پھر رہی ہے۔ اور جہانگیر ادھر ادھر دیکھ رہا ہے۔ کوئی سمجھائے انہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos