‏آصف علی زرداری کی پنجاب میں سیاسی انٹری

[post-views]
[post-views]

تحریر بیرسٹر نوید احمد قاضی

پاکستان پیپلز پارٹی نے 2018 کے الیکشن میں صوبہ پنجاب کی قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی تقریباً تین سو چالیس نشستوں میں سے مجموعی طور پر تیرہ نشستیں عام انتخابات میں جیتی۔ تاہم اس میں اہم بات یہ ہے کہ تمام نشستیں پیپلز پارٹی نے نہیں بلکہ قابل انتخاب نے جیتی۔ پنجاب کی سیاست میں سے اگر مخدوم، گیلانی، راجہ پرویز اشرف، کھر اور سید خاندان پیپلز پارٹی چھوڑ جائیں تو پیپلز پارٹی محض اپنی سیاسی مقبولیت کی بنیاد پر پنجاب میں ایک بھی قومی یا صوبائی اسمبلی کی نشست نہ جیت پائے۔ ایسا ہی کچھ سیاسی جھکاؤ ریپبلک پالیسی کے مارچ کے حلقہ جاتی سروے میں بھی سامنے آیا جہاں پیپلز پارٹی پنجاب میں بطور سیاسی جماعت صرف سات نشستوں پر قابل انتخاب کی وجہ سے آگے ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی بطور سیاسی جماعت پنجاب میں ختم ہو چکی ہے اور انتخابی نشستیں صرف اسی صورت میں جیت سکتی ہے اگر قابل انتخاب ذاتی حیثیت میں نشستیں جیتنے کے قابل ہوں۔ ریپبلک پالیسی کے سروے کے مطابق پیپلز پارٹی صرف قابل انتخاب کی وجہ سے پنجاب کے دو سو ستانوے حلقوں میں سے صرف سات حلقوں میں آگے ہے۔

اگر پنجاب میں مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پیپلز پارٹی مقبولیت کے اعتبار سے پانچویں نمبر پر ہے۔ پاکستان تحریک انصاف مقبول ترین جماعت ہے۔ اس کے بعد ن لیگ بھی مقبول جماعت ہے۔ تیسرے نمبر پر تحریک لبیک پاکستان مقبول جماعت ہے۔ اسکے بعد جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی کا نمبر آتا ہے۔ متذکرہ سیاسی حالات میں جب پیپلز پارٹی کے بارے میں پنجاب میں عمومی تاثر منفی میں ہے، آصف زرداری کا پنجاب کے سیاسی محاذ کو محض قابل انتخاب کی وجہ سے فتح کرنا انکی سیاسی ناپختگی کو ظاہر کرتا ہے۔ تا ہم ناقدین اس کو سیاسی ناپختگی کم اور اشارہ ذیادہ سمجھ رہے ہیں ۔ اس بحث سے بڑھ کر پنجاب کا سیاسی منظرنامہ تبدیل ہوتا جا رہا ہے اور قابل انتخاب کی جگہ مقبول قیادت اور جماعتیں عوام میں ذیادہ پذیرائی لے رہی ہیں۔ پنجاب کے عوام اب قابل انتخاب کی بجائے سیاسی جماعتوں کو ووٹ دینا پسند کرتے ہیں۔ مزید شہری حلقوں میں قابل انتخاب کا کردار تقریباً ختم ہو گیا ہے اور دیہاتوں میں بھی قابل انتخاب کی پہلے والی پوزیشن نہیں رہی۔ تاہم یہ سیاسی دلیل صرف اس صورت ممکن ہو سکتی ہے اگر الیکشن شفاف ہوں۔ اگر الیکشن ہی شفاف نہ ہوں تو کوئی بھی تجزیہ نہیں ہو سکتا۔

Don’t forget to Subscribe our channel & Press Bell Icon.

آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کی سیاست پنجاب کی حد تک توڑ جوڑ، گروہ بندی، قابل انتخاب اور سیاسی اقربا پروری تک محدود رہ گئی ہے۔ پنجاب کی عوام میں پیپلز پارٹی کی سیاسی اپیل سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ اسکی بنیادی وجہ آصف علی زرداری کی طرز سیاست کا وہ ماڈل ہے جو کہ پنجاب کے لوگوں میں یکسر غیر مقبول ہے۔ اسکے علاہ پنجاب کے ووٹرز میں کارکردگی کا بھی پیمانہ رائج ہے۔ مزید یہ کہ پنجاب میں جمہوریت اور آئینی حکمرانی کا شعور بڑھا ہے جسکی وجہ سے پی ڈی ایم کو اب پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا ہے۔

شفاف الیکشن کی صورت میں پیپلز پارٹی کا پنجاب میں سرے سے کوئی چانس نہیں ہے۔ تاہم پولیٹ یکل انجینئرنگ اور تحریک انصاف کو کارنر کرنے کی صورت میں سیاسی خلاء پیدا کیا جا سکتا ہے جس میں آصف علی زرداری بشرطیکہ مقتدرہ حلقوں کی آشیر باد سے کچھ سیاسی رول ادا کر سکتے ہیں۔ آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی سے توقع رکھنا کہ وہ اپنی مقبولیت یا سیاسی چالوں سے پنجاب کے ووٹرز کو رام کر سکیں گے، محض خام خیالی ہے اور اسکی بنیادی وجہ آصف علی زرداری کی سیاست کا ماڈل عوام میں غیر مقبول ہونا ہے۔ پیپلز پارٹی 2008 تک پنجاب کی مقبول ترین جماعت تھی۔ بینظیر صاحبہ کی وفات سے ہی پنجاب میں پیپلز پارٹی کا زوال شروع ہوا اور آصف علی زرداری کی جوڑ توڑ اور محلاتی سازشوں پر مبنی سیاست کو پنجاب کے عوام نے مسترد کر دیا۔ یہاں یہ کہنا بھی غیر مناسب نہ ہو گا کہ پیپلز پارٹی کے ووٹرز تحریک انصاف کے ساتھ چلے گئے اور اب بھی انکی غالب اکثریت پیپلز پارٹی کے ساتھ جانے کو تیار نہیں۔

رپبلک پالیسی کا ماہ جون کا میگزین پڑھنے کیلئے کلک کریں۔

آخر میں اصل غور طلب سوال یہ ہے کہ کیا یہ جمہوری اور اخلاقی طور پر جائز ہے کہ ایسی سیاسی جماعت جو کہ پنجاب میں مقبولیت کے لحاظ سے پانچویں نمبر پر ہو اسکو مصنوعی طریقے سے پنجاب کی عوام کا نمائندہ بنا دیا جائے۔ ایسی پولیٹ یکل انجینئرنگ کو پنجاب کے لوگ مشکل سے مانیں گے۔ جمہوریت میں مصنوعی سیاسی نمائندگی سیاسی مسائل کو جنم دیتی ہے۔ پنجاب کے انتخابی حلقوں میں تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کے ووٹرز ذیادہ تعداد میں موجود ہیں اور اصل سیاسی مقابلہ ان دونوں کے درمیان ہی ہونا ہے۔ تا ہم قابل انتخاب بھی کچھ حلقوں میں مقبول ہیں اور ساتھ ہی تحریک لبیک بھی ہر حلقے میں ووٹ بینک رکھتی ہے۔ تاہم پیپلز پارٹی سوائے کچھ حلقوں کے اپنا وجود ہی کھو چکی ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos