ملک بھر میں آٹے کے بعد سستے گھی اور کوکنگ آئل کے بحران نے سر اٹھا لیا ہے۔ یوٹیلیٹی سٹورز کو سپلائی بند ہو گئی ہے۔ پنجاب کے کئی علاقوں میں یوٹیلیٹی سٹورز کو گزشتہ پانچ روز سے سستے گھی اور کوکنگ آئل کی سپلائی ہی نہیں کی گئی، صارفین کو دشواری کا سامنا ہے۔ دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ معاملات کنٹرول میں ہیں، کوئی فکر کی بات نہیں، ہم عنقریب معاشی بحرانی کیفیت سے نکل جائیں گے۔
وزیراعظم کا یہ عمل خوش آئند ہے کہ پاکستان جلد بحران سے نکل جائے گا ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ عوام اب بیانات کے بجائے عمل کے منتظر ہیں۔ وہ گزشتہ 4 برس سے تسلسل کے ساتھ دل خوش کن بیانات کے بر عکس مہنگائی کا پھندا تنگ ہوتا ہوا د یکھ اور بھگت رہے ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف کے برسر اقتدار آنے اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے حلف اٹھانے سے عوام کو تھوڑی بہت ڈھارس بندھی تھی۔ لیکن اس کے باوجود انہیں خالی بیانات کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا، جس کی وجہ سے اب وہ بیانات کے بہلا وے میں آنے کو تیار نہیں ۔
عوام دیکھ رہے ہیں کہ ایک جانب حکومت کفایت شعاری اور معاشی مسائل حل کرنے کا یقین دلاتی ہے تو دوسری جانب 77 رکنی کابینہ سمیت اشرافیہ کی عیاشیاں اور مراعات نہ صرف جاری ہیں بلکہ صرف 6 ماہ میں ایک ارب ڈالر کی پر تعیش گاڑیوں کی درآمد بھی ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ ایک جانب حکومت گزشتہ 8 ماہ سے بیرونی سرمایہ کاری اور آئی ایم ایف کے ایک ارب ڈالر کے لیے ترلے کر رہی ہے تو دوسری جانب چین اور سعودی عرب اس لیے ناراض ہیں کہ سرمایہ کاری کے لیے ضروری قانون سازی اور تحفظ فراہم نہیں کیا جار ہا۔دوسری صورت میں ان دو ممالک کی کم از کم 10 ارب کی سرمایہ کاری،اور دو ارب کی سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری متحدہ عرب امارات سے طے شدہ ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وزیر ا عظم بیانات کی دنیا سے نکلیں اور عملی اقدامات کریں، تا کہ معیشت کو سنبھالنا ممکن ہو سکے ۔ کم از کم بیانات سے معیشت سنبھلنے والی نہیں۔













