حزب اللہ کا انتباہ: علی طباطبائی کی شہادت کا جواب کب اور کیسے دیا جائے گا

[post-views]
[post-views]

لبنانی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے اپنے سینئر کمانڈر علی طباطبائی کی ہلاکت پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی حملے کا جواب دینا اس کا واضح اور غیر مشروط حق ہے۔ تنظیم کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ جوابی کارروائی کب اور کس صورت میں کی جائے گی، اس کا فیصلہ مکمل طور پر حزب اللہ کی اپنی قیادت کرے گی، کیونکہ اسے معلوم ہے کہ کب کیا قدم اٹھانا اس کے مفاد میں ہے۔

حزب اللہ کے نائب سربراہ نعیم قاسم نے ایک تفصیلی ٹی وی خطاب میں کہا کہ اسرائیل کی جانب سے ہونے والی یہ کارروائی ایک کھلی جارحیت ہے جس کا مقصد نہ صرف حزب اللہ کے ڈھانچے کو کمزور کرنا ہے بلکہ پورے خطے کے امن کو غیر مستحکم کرنا بھی ہے۔ ان کے مطابق ہٰیثم علی طباطبائی ایک سرگرم اور اعلیٰ درجے کے کمانڈر تھے جن کا نشانہ بنایا جانا حزب اللہ کے لیے بڑا نقصان ضرور ہے، لیکن اس سے تنظیم کی مزاحمتی صلاحیت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

نعیم قاسم نے کہا کہ حزب اللہ کسی فوری ردعمل کے دباؤ میں آ کر فیصلہ نہیں کرتی بلکہ اپنی حکمت عملی، زمینی صورتحال اور خطے کے بدلتے سیاسی ماحول کو مدنظر رکھتی ہے۔ اسی لیے جوابی کارروائی کے وقت اور نوعیت کا اعلان صرف اس وقت کیا جائے گا جب تنظیم یہ سمجھے گی کہ اس کا اثر زیادہ اور نقصان کم ہوگا۔

اپنے خطاب میں انہوں نے لبنانی حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کی جانب سے بڑھتی ہوئی جارحیت، فضائی خلاف ورزیوں اور سرحدی تناؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک مربوط قومی حکمت عملی مرتب کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ لبنان اس وقت ایک نازک مرحلے سے گزر رہا ہے اور ایسی صورتحال میں سیاسی قیادت کو متحد ہو کر قومی سلامتی کے لیے فیصلے کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی مسلسل کارروائیاں لبنان کی خودمختاری کو چیلنج کر رہی ہیں، اس لیے اب وقت آ گیا ہے کہ ریاستی ادارے اپنی ذمہ داری ادا کریں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos