ایران نے واضح کیا ہے کہ اگر اسرائیل لبنان پر اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھتا ہے تو وہ امریکا کے ساتھ طے شدہ جنگ بندی معاہدے سے الگ ہونے پر غور کر سکتا ہے۔
یہ بات ایرانی نیم سرکاری خبر ایجنسی “تسنیم” نے ایک اعلیٰ سرکاری ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کی ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق لبنان میں جاری اسرائیلی حملوں کو جنگ بندی کی صریح خلاف ورزی سمجھا جا رہا ہے اور اس صورتحال کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ اگر اسرائیل نے اپنی کارروائیاں نہ روکیں تو ایران امریکا کے ساتھ طے پانے والے معاہدے سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس دو ہفتوں کے جنگ بندی منصوبے میں لبنان سمیت مختلف محاذوں پر لڑائی روکنے پر اتفاق کیا گیا تھا، جس میں حزب اللہ بھی شامل ہے۔
دوسری جانب اسرائیل نے جنگ بندی کے پہلے ہی دن بیروت، وادی بقا اور جنوبی لبنان میں وسیع پیمانے پر فضائی حملوں کی تصدیق کی ہے، جن میں مختصر وقت میں سو سے زائد مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔
مزید برآں، ایرانی خبر رساں ادارے “فارس” کے مطابق اسرائیلی کارروائیوں کے ردعمل میں ایران نے آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی ترسیل عارضی طور پر روک دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ابتدائی طور پر چند ٹینکرز کو گزرنے کی اجازت دی گئی تھی، تاہم بعد ازاں کشیدگی بڑھنے پر آمد و رفت معطل کر دی گئی۔





