
تحریر: ڈاکٹر سیف اللہ بھٹی
کالم نگار نشترمیڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد صوبائی انتظامیہ کاحصہ ہیں۔
ایک صاحب پکے دنیا دار تھے۔ مکارتھے۔ عیار تھے۔ درخواست بازی کے ماہر تھے۔ اپنے مقصد کے حصول کیلئے کسی بھی حد تک چلے جاتے تھے۔ مخالفوں پر جھوٹے سچے مقدمے کردیتے تھے۔ ایک دفعہ ایک افسر سے ناراض ہو گئے۔ افسر کے خلاف درخواست دے دی کہ وہ اپنے دفتر میں چرس پیتے ہیں۔ ہر وقت چرس کے نشے میں رہتے ہیں۔ افسر انتہائی دیانتدار تھے۔ اپنے فرائض منصبی اچھے طریقے سے سرانجام دیتے تھے۔ ایک خیر خواہ نے الزام لگانے والے شخص کو سمجھانے کی کوشش کی ”کسی پر ایسا الزام نہیں لگانا چاہیے۔ اختلافات ہوتے رہتے ہیں“۔ دنیا دار صاحب کہنے لگے ”کیوں نہ الزام لگاؤں؟۔ شکل و صورت سے یہ کبھی کبھی چرسی لگتے بھی ہیں۔ کافی عرصہ پہلے میرا خاندان چرس بیچنے کا کاروبار کرتا تھا۔ میں تو یہی الزام لگاؤں گا۔ بڑے افسر بنے پھرتے ہیں۔ الزام جھوٹا ہو یا سچا، صاحب ذلیل ہوکر رہ جائیں گے“۔ ان صاحب کی نظر میں افسر کاقد مزید بلند ہو گیا۔ الزام لگانے والے صاحب انہیں بہت پست کردار لگنے لگے۔
ایک صاحب دوستوں کے حلقے میں انتہائی معقول سمجھے جاتے تھے۔ ایک دفعہ انہوں نے اپنے ایک مخالف پر ایک ایسا مقدمہ کردیا جس کا کوئی سر پیر نہ تھا۔ مقدمے کو بے جا طول دیتے رہے۔ ہر پیشی پر کسی بہانے سے تاریخ لے لیتے۔ ایک دوست نے اُن سے مقدمے بازی کی وجہ پوچھی تو کہنے لگے ”کیس کا سامنا کرے گا تو اُس کا خرچہ ہوگااور کچھ ہو نہ ہو پرس تو ہلکا ہو گا۔ مجھے پتہ ہے کہ کیس میں جان نہیں ہے مگر میں تگڑا وکیل کر سکتا ہوں، اپنے مخالف کو ذلیل کرسکتاہوں“۔ مخالف ذلیل ہوا یا نہیں، انہیں معقول سمجھنے والے لوگ توبہ تائب ہو گئے۔ انہیں معقول کی بجائے رذیل سمجھنے لگے۔
ایک خاتون ہرماہ نیا پرس خریدنے کی ضدکیا کرتی تھیں۔ شوہراُن سے بہت محبت کرتے تھے۔ تھوڑی بحث و تکرار کے بعد اُن کی بات مان لیتے تھے۔ خاتون نیا پرس خریدتے ہی پرانا پرس اپنی چھوٹی بہن کو عنایت کردیتی تھیں۔ نیا پرس خریدنے کیلئے پھر شوہر کے سر پر سوار ہو جاتیں تھیں۔ ایک دن شوہر کہنے لگا ”تم اپنے میکے کیلئے بہت دل والی ہو مگر میرے لیئے صرف بل والی ہو“۔ تھوڑا مجھ پر بھی ترس کھاؤ۔ ایک دو ماہ پرانے پرس کے ساتھ گزارو۔ میرا مستقبل سنوارو“۔
Don’t forget to Subscribe our channel & Press Bell Icon.
ایک صاحب کا شہر میں بہت اچھا کاروبار تھا۔اللہ تعالیٰ نے وافر رزق عطا کیا تھا۔ وہ ہر ہفتے ایک بار اپنے گاؤں ضرور جاتے تھے۔ غریب پڑوسیوں اور عزیزواقارب سے ملتے تھے۔ بہت ترس کھاتے تھے۔ ترس کے علاوہ کچھ نہ کھاتے تھے، نہ کسی کو کھلاتے تھے۔ گفتار کے غازی تھے۔ عملاً کسی کی مدد نہ کرتے تھے۔ ایک دن ایک غریب رشتے دار کہنے لگا ”مہا بھارت پڑھیں تو پتہ چلتا ہے رام جی نے ایک فریق کو آشیر باد اور دوسرے فریق کو اپنی فوج عنایت کی تھی۔ تھوڑی دیر بعد آشیر باد والے فریق نے اس فیصلے پر نظرثانی کی استدعا کی تھی۔ میری بھی آپ سے گزارش ہے آپ ترس خود کھائیں۔ ہمیں ایک ماہ کا راشن دے دیں“۔
ایک اُستاد ٹیوشن پڑھانے کے بہت شوقین تھے۔ کئی طلبہ ذہین ہوتے تھے۔ ٹیوشن پڑھنا پسند نہیں کرتے تھے۔ مالی حالات بھی اس کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ وہ اُن کو بہانے بہانے سے بُلا کر ٹیوشن کی اہمیت پر قائل کرنے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔ اُس زمانے میں سائنس کے مضامین میں پریکٹیکل امتحان بھی ہوتاتھا۔ ممتحن کسی دوسرے ادارے سے آتے تھے مگر نمبر مقامی اساتذہ کے کہنے پر لگائے جاتے تھے۔ ایک دن پروفیسر صاحب کے گھر ایک ذہین طالب علم موجودتھا۔ طالب علم ابھی تک ٹیوشن پڑھنے پر آمادہ نہ تھا۔ باہر کسی قلفی والے نے آواز لگائی تو پروفیسر صاحب کہنے لگے ”اس قلفی والے نے بھی اپنے زمانے میں کسی قابل استاد سے ٹیوشن نہیں پڑھی ہوگی“۔ طالب علم نے فی البدیہہ گزارش کی ”سر! ہوسکتاہے کہ اس نے ٹیوشن پڑھی ہو مگر فیس نہ دی ہو۔ استاد صاحب نے غریب پر ترس نہ کھایاہو۔ پریکٹیکل میں ہمارے بھائی کے نمبر نہ لگوائے ہوں“۔
آن لائن رپبلک پالیسی کا میگزین پڑھنے کیلئے کلک کریں۔
ایک بھائی صاحب ایک دفتر میں ملازمت کرتے تھے۔ دفتر میں انچارج افسر کا تبادلہ ہوتا رہتاتھا۔ انچارج عموماً دور دراز کے علاقوں سے آتے تھے اور تھوڑی مدت گزار کرچلے جاتے تھے۔ ہمارے بھائی صاحب ہر افسر سے ہرماہ کئی چھٹیاں یہ کہہ کر لے لیتے تھے کہ اُن کی بیوی ہسپتال میں ہے۔ افسر کو کافی مدت بعد پتہ چلتاتھا کہ بھائی صاحب کی بیوی ہسپتال میں بیماری کی وجہ سے نہیں، اپنے کام کی وجہ سے ہے۔ ان بھائی صاحب کی بیوی ”نرس“ تھی۔
ایک صاحب بہت سست الوجود تھے۔ تمام اہم کام نئے سال کی آمد پر اُٹھا رکھتے تھے۔ سب کو بتاتے تھے ”نیا برس آنے دو۔ یہ بھی کرگزروں گا۔ وہ بھی کرگزروں گا“۔ آخر کار نیا برس آ ہی جاتاتھا۔ نیا برس آتے ہی وہ بارش برسنے کا انتظار شروع کردیتے تھے۔ ابھی اُن کو موسم مناسب نہیں لگتاتھا۔ بارش برسنے تک کئی ماہ گزر جاتے تھے۔ پھر نئے برس کا انتظار شروع ہو جاتا تھا۔ یہ چکر اسی طرح چل رہا ہے۔ اُن صاحب کو اب چکر آنا شروع ہو گئے ہیں۔ اللہ نہ کرے مگر لگتا یہی ہے کہ اُن کے ماہ و سال کا چکر اب تمام ہونے کوہے۔ وہ اولاد پر برستے رہتے ہیں۔ اولاد کی آنکھیں برستی رہتی ہیں۔









