ایران میں مہنگائی اور بڑھتی ہوئی زندگی کی لاگت کے خلاف احتجاج کے دوران حکومتی فورسز اور مظاہرین کے جھڑپوں میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
مغربی ایران کے شہروں لردگان اور کوہدشت میں ہلاک ہونے والوں میں دو شہری اور ایک حکومتی اہلکار شامل ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیم ہینگاؤ کے مطابق کچھ ہلاک ہونے والے مظاہرین تھے، لیکن ان دعوؤں کی آزاد تصدیق ممکن نہیں۔
احتجاج اتوار کو تہران میں تاجروں کی ہڑتال سے شروع ہوا، جو بعد میں دیگر بڑے شہروں اور جامعات کے طلبہ تک پھیل گیا۔
ایرانی معیشت مغربی پابندیوں کے اثرات سے دباؤ میں ہے، گزشتہ ایک سال میں ریال کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں ایک تہائی سے زائد کم ہو گئی ہے، جبکہ مہنگائی کی شرح 52 فیصد تک پہنچ گئی۔
صدر مسعود پزشکیان نے مظاہرین کے مطالبات کو جائز قرار دیتے ہوئے معاشی بہتری پر زور دیا، لیکن حکام نے امن و امان خراب کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی وارننگ بھی دی۔













