اس میں دوسری کوئی رائے نہیں کہ پاکستان سردست کسی بھی قسم کے معاشی الجھاو یا جھٹکے کا متحمل نہیں ہو سکتا کہ خدا نخواستہ ایسا کوئی بھی معاملہ ان خدشات کو حقیقت کا روپ دے سکتا ہے جو زبان زد عام ہیں۔ دریں صورت پاکستان ٹیکسٹائل مل ایسوسی ایشن کا 150 سے زائد اسپننگ ملز بند کر دینا، ہزاروں مزدوروں کی بے روزگاری، در آمدی پابندیوں کی وجہ سے ملک میں دالوں، خوردنی تیل اور گھی کے بحران کو سنگین کرنے کا موجب بن سکتا ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ حکومت کی طرف سے لیٹر آف کریڈٹ کھولنے کا سلسلہ تعطل کا شکار ہے جس کے باعث ہر طرح کے درآمد کنندگان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ چنانچہ پاکستان بھر کے صنعت کاروں اور چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈ سٹریز کے نمائندوں نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ در آمدی پابندیوں کو کم کرے ورنہ کاروباری سرگرمیوں کو کم کرنے کے علاوہ ان کے پاس کوئی چارہ نہیں۔ اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدرا حسن ظفر بختاوری کا کہنا ہے کہ تمام بر آمدی صنعتوں کو مصنوعات تیار کرنے کیلئے بنیادی خام مال اور اوزار در آمد کرنے کیلئے اسٹیٹ بینک کی جانب سے ایل سیز کھولنے کا انتظار ہے۔
پاکستان فارما سیوٹیکل مینو فیکچرنگ ایسوسی ایشن کے سینئر وائس چیئر مین ندیم ظفر نے بتایا کہ پاکستان میں بننے والی 90 فیصد ادویات چین اور بھارت سے درآمد کئے جانے والے خام مال پر مبنی ہیں، اگر اس کی درآمد کے مسئلے پر توجہ نہ دی گئی تو ادویات کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہو سکتا ہے۔ ایل سیز نہ کھولنے کی وجہ بھی سب کے سامنے ہے اور یہ بھی کہ پاکستان کو اس وقت زر مبادلہ کے حصول کیلئے بر آمدات بڑھانے کی اشد ضرورت ہے، معاملہ پیچیدہ ہے جسے افہام و تفہیم سے فوری حل کرنا ہو گا۔ امید ہے کہ پاکستان پر قرضوں اور امداد کے در کھلنے سے معاملات معمول کی طرف آنا شروع ہو جائیں گے، دریں حالات ہر کسی کو ملک کی معاشی بہتری کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔









