
سن 1857 کی جنگ آزادی کو برصغیر کے رہنے والے کبھی نہیں بھول سکتے .جنگ آزادی کو غدر بھی کہا جاتا ہے .جنگ آزادی میں ہندو مسلم اکٹھے تھے لیکن انگریز نے جنگ آزادی کے بعد مسلمانوں پر قیامت ڈھا دی. اللہ تعالی کے نبی صلی اللہ علیہ وآل وسلم کی غزوہ بدر کے دن دعا کا مفہوم ہے” اگر یہ تیرے چند نام لینے والے نہ رہے تو دنیا سے توحید کا نام و نشان مٹ جائے گا”. اللہ تعالی نے مسلمانوں کو بدر میں ایسی فتح عطا کی کہ اسلام کے غلبے کی بنیاد پڑ گئی. مسلمانوں کو غدر کے بعد اگرچہ چن چن کر قتل کیا گیا لیکن مسلمانوں کو اندازہ ہو گیا کہ ان کی بقا کے لیے کوئی بھی کوشش نہیں کرے گا. انہیں اپنی جنگ تن تنہا خود لڑنا پڑے گی .ہندو انگریزوں سے آزادی چاہتے تھے اور اس جدوجہد آزادی میں انہیں مسلمانوں کا ساتھ درکار تھا لیکن یہ ساتھ بطور ایک شریک کار کے نہیں،فقط اپنے مقاصد کے لیے تھا ۔وہ اپنی کثرت پر نازاں تھے. مکہ کے رہنے والوں کو بھی اپنی کثرت کا خمار تھا .اسلام اللہ تعالی کی برکت سے ہر کربلا کے بعد زندہ ہوتا ہے. کعبہ کو بت خانےسے پاسبان مل جاتے ہیں .اللہ تعالی نے اپنا دین غلبے کے لیے بھیجا ہے. مسلمانوں نے اپنے دور حکمرانی میں ہمیشہ انتہائی رواداری کا مظاہرہ کیا تھا .اپنے اسلاف کی ان شاندار روایات کو اگے بڑھایا تھا جو اندلس اور ان تمام علاقوں میں مسلمانوں نے قائم کی جہاں ان کی حکمرانی رہی. مسلمانوں نے کبھی بھی اپنی رعایا کے مذہب اور سماجی روایات سے دشمنی نہ رکھی. اسلام کی تاریخ گواہ ہے کہ اقلیتوں کو جو سازگار ماحول مسلم ممالک میں میسر آیا ،دنیا میں اور کہیں نہ مل سکا. لیکن اب حالات بدل گئے تھے ۔ انگریز تاجر نہیں تھے ،فاسق فاجر تھے۔ حکمران تھے،مسلمانوں کے رتبے سے انجان تھے. ہندو بھی مسلم حکومت کے عہدے دار نہیں تھے. ہندو انگریزوں کا راج دلارا بن گئے ,ان کی آنکھ کا تارا بن گئے .مسلمانوں کو چن چن کر نہ صرف قتل کیا گیا بلکہ ہر طرح کا ظلم ان پہ ڈھایا گیا. اسلام کو اللہ تعالی نے اتنی قوت دی ہے کہ ہر سانحے سے عہدہ برا ہو سکتا ہے. سر سید احمد خان نے مسلم کمیونٹی کی قیادت کا حق ادا کرتے ہوئے مسلمانوں کو اپنا جداگانہ قومی تشخص برقرار رکھنے کی ھدایت کی.مسلمانوں کو جدید تعلیم کی طرف مائل کیا لیکن انہیں اپنے مذہب سے اور شناخت سے جڑے رہنے کا درس بھی دیا. سر سید کی سعی پیہم سے مسلمانوں کو ہر دور میں ایسے رہنما ملتے رہے ,جنہوں نے نظریہ پاکستان پر اپنی زندگی نچھاور کر دی. مسلم لیگ قائم ہوئی اور کہا گیا “مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ”. مسلم ,مسلم لیگ میں آتے رہے, پاکستان تک رہنمائی کرنے والی شاھراہ کو سجاتے رہے ,اپنے رہنماؤں کا ہاتھ بٹاتے رہے, ہندوکے غلبہ پانے کے مقاصد کے آڑے آتے رہے, ایسا کارواں بناتے رہے جسے ایک دن قیام پاکستان کی لیلۃ القدر نصیب ہوئی .سر سید کے انتقال کے بعد مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے مسلمان اپنے حقوق کیلئے جدوجہد کرتے رہے. بہت سے کڑے مقامات آئے لیکن قوم ان سے بخیر و خوبی گزر گئی
علامہ اقبال مصور اور مفکر پاکستان تھے اور حکیم الامت بھی. انہوں نے بہت جلد اندازہ لگا لیا کہ مسلمانوں کی کشتی کو قائداعظم ہی طوفان کے پار لگا سکتے ہیں. انہوں نے جناح کو مجبور کیا وہ مسلمانوں کی قیادت سنبھالیں .محمد علی جناح نے قیادت سنبھالی اور ایسی سنبھالی کہ دنیا میں اس کی نظیر نہیں ملتی. اللہ تعالی کے فضل و کرم سے 1947 کا رمضان برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کے لیےھی نہیں، دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ہر طرح کی برکات لایا. ایک برکت مسلمانان عالم کو ایسی نصیب ہوئی جس کی بہت زیادہ ضرورت تھی. رمضان کا آخری عشرہ رحمتوں کے نزول کا عشرہ ہے. لیلۃ القدر کی رات بھی اسی عشرے میں ہوتی ہے. کہا جاتا ہے کہ پاکستان لیلۃ القدر کو معرض وجود میں آیا. اللہ کی سنت کبھی نہیں بدلتی۔ اللہ تعالی جب کسی کو نعمت عطا کرتے ہیں تو نعمت کا حق ادا کرنا چاہیے, شکر کرنا چاہیے. کفران نعمت کرنے والوں کو بارگاہ خداوندی میں اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا. اب ہمارا فرض ہے کہ اس عظیم نعمت کا شکر صحیح معنوں میں ادا کریں. لیلۃ القدر کے بارے میں قرآن شریف میں مذکور ہے “سلامتی ہے یہ رات”۔پاکستان نہ صرف ہماری بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کی سلامتی ہے.تاریخ گواہ ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان اپنی ہر مشکل میں پاکستان کی طرف دیکھتے رہے ہیں اور امید ہے کہ آئندہ بھی دیکھتے رہیں گے. امت کا فخر پاکستان ہے. ہمارے حکمرانوں نے دنیا میں مسلمان کو کہیں بھی تکلیف ہو، اس کا نہ صرف نوٹس لیا ہے ،بلکہ اپنے حصے کی شمع جلانے کا بھی اہتمام کیا ہے. لیلۃ القدر کی عبادت کا اپنا ہی اجر ہے. لیلۃ القدر کو حاصل ہونے والی عظیم نعمت پاکستان کی خدمت کا بھی اپنا ہی اجر ہے.
پاکستان کے لیے محنت کرنا عبادت بھی ہے اور ہماری ذمہ داری بھی. ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ” شب قدر کی رات عبادت کرنے والوں کے پچھلے گناہ بخش دیے جاتے ہیں”. پاکستان کا حق ادا کر نے میں جو کوتاہیاں ہوئی ہیں ،انشاءاللہ ،اللہ تعالی بخشش دے گا ،اگر ہم پاکستان جیسی نعمت کا حق ادا کرنا شروع کر دیں.
وطن چمکتے ہوئے کنکروں کا نام نہیں ، اہل وطن کے جسم اور روح سے عبارت ہوتا ہے ۔ کوئی شک نہیں کہ ہمارے اجداد نے اس مٹی کی محبت میں وہ قرض بھی چکائے ہیں جو واجب نہیں تھے.
اک صوفی بزرگ نے کیا خوب فرمایا “اگر دل قدر کرنے والا ہو تو مومن کی ہر شب، شب قدر ہے” .ایک شاعر نے بجا کہا تھا کہ “امت پر عجب وقت ان پڑا ہےاور اور یہ وقت وقت دعا ہے”. ایک حکیم نے بالکل صائب مشورہ دیا تھا کہ “اگر ہم ابھی بھی دشمن کے ارادے نہیں سمجھیں گے تو شاید کل ہماری داستان تک نہیں ہوگی, داستانوں میں ،کیونکہ ہمارے دشمن قیامت کی چالیں چل رہے ہیں”. شاید اب وہ وقت آگیا ہے جس کے لیے کہا جاتا ہے کہ “ابھی نہیں تو کبھی نہیں”.”سب سے پہلے پاکستان “کے نعرے کو دل سے لگانے کی ضرورت ہے. تاریخ گواہ ہے جب مسلمانوں کو ایک نعرہ مل گیا ” پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ “تو برصغیر کے مسلمانوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا .اللہ تعالی نے بھی بھرپور مدد کی۔ اک ایسی سلطنت وجود میں آئی جس پر مسلمان تا قیامت فخر کرتے رہیں گے، انشاللہ.۔وقت آگیا ہے ہم اپنے تمام اختلافات کو بھول کر “سب سے پہلے پاکستان “کا نہ صرف نعرہ لگائںں بلکہ اسے حذرجاں بنائیں.
جھنگ کے عظیم شاعر صفدر سلیم سیال نے کیا خوبصورت دعا مانگی
ہزار بار میں پیوند خاک ہو جاؤں
میرا وطن میرے پروردگار زندہ رہے
ایک اور شاعر نے پوری قوم کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا
مری زمیں پہ جو پرچم مرے لہو کا ہے
بدل ہی جاۓ گا جو فیصلہ عدو کا ہے
ہم اس کی جاں سے بھی بڑھ کر کریں نہ کیوں پروا
کہ یہ ثمر تو ہماری ہی آرزو کا ہے
آئیے آج اللہ تعالی سے , پاک سرزمین سے اور خود سے ایک وعدہ کریں؛
وطن کے جاں نثار ہیں وطن کے کام آئیں گے
ہم اس زمیں کو ایک روز آسماں بنائیں گے
اللہ تعالی ہمارا حامی و ناصر ہو. پاکستان زندہ باد, پاکستان پائندہ باد.