اس وقت جب کم اور متوسط آمدنی والے پاکستانی گھرانے آسمان کو چھوتی ہوئی مہنگائی کی بدولت اپنی زندگیوں کو گزارنے کی کوشش کر رہے ہیں، صارفین ایک بار پھر ملک کے کچھ حصوں میں گندم اور آٹے کی قلت سے مشکلات کا شکار ہیں۔، ایسا مارکیٹ میں گندم کی پیداوار اور ترسیل کی سست روی کی وجہ سے ہے۔ سندھ میں، فلور ملرز نے ملوں کو گندم کی کم سپلائی اور آٹے کے نرخوں پر تنازعہ کی وجہ سے پیداوار معطل کرنے کی دھمکی دی ہے، جس سے یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ اگلے دو دنوں میں مارکیٹوں میں اجناس ختم ہو جائے گی۔ صوبائی حکومت مل مالکان پر اپنے سٹاک سے فراہم کی جانے والی ریلیف والی گندم ذخیرہ کرنے کا الزام لگا رہی ہے اور کچھ ملوں کو سیل کر رہی ہے۔ ملرز نے بھی من مانی کرتے ہوئے نرخوں میں تقریباً ایک چوتھائی تک 130 روپے فی کلو اضافہ کر دیا ہے، یہ استدعا کرتے ہوئے کہ مارکیٹ میں گندم کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ حالیہ ماضی میں، ہم نے بیوروکریسی کی نااہلی، مارکیٹ میں بدانتظامی اور کافی مقامی اور درآمدی اسٹاک کے باوجود گندم کے آٹے کے بحران کو پاکستان بھر میں کئی بار پھوٹتے اور مزید سنگین ہوتے دیکھا ہے۔ اس کی وجہ سے اکثر شہری گھنٹوں قطار میں کھڑے ہوتے ہیں اورریلیف والے آٹے کے لیے آپس میں لڑتے رہتے ہیں۔ اس سے قبل سندھ کے شہر میرپورخاص میں ریلیف والے آٹے کے اسٹاک کی فروخت کے مقام پر بھگدڑ مچنے سے ایک شخص ہلاک ہوگیاتھا۔
یہ افسوس کی بات ہے کہ پاکستان جو کئی سالوں سے نہ صرف گندم میں خود کفیل تھا بلکہ عالمی خوراک پروگرام کو قحط کا سامنا کرنے والے ممالک کی مدد کے لیے اناج بھی فراہم کرتا تھا، اب اجناس درآمد کرنے پر مجبور ہے، اور اس کے باوجود220 ملین لوگوں کو مناسب سہولیات فراہم کرنے سے قاصر ہے۔گزشتہ ماہ شہری علاقوں میں تقریباً 42 فیصد اور دیہی علاقوں میں گندم کی قیمتوں میں 47 فیصد اضافے نے پہلے ہی کم آمدنی والے طبقے کو دیگر اشیائے خوردونوش کو اُن کی پہنچ سے دور کر دیا ہے۔ انتہائی مہنگائی کے ماحول میں گندم اور آٹے کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ہو رہا ہے، کرنسی کی بے قدری اور بالواسطہ ٹیکسوں میں اضافے کی وجہ سے، یہ صوبائی اور وفاقی حکومتوں کا فرض ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ بےایمان عناصر کی طرف سے پیدا کردہ مصنوعی قلت کو ختم کیا جائے۔ تاکہ ملک میں موجود غریب اور کمزور طبقات تک بنیادی ضرورت(گندم) کی رسائی ممکن ہو سکے۔ اگر حکومت ایسا کرنے میں ناکام ہوتی ہے تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں اور آبادی کے ایک بڑے حصے کو شدید بھوک کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔













